غیر مسلم اگر مر گئے ہوں اور اس کے کسی اقرباء کا بھی پتہ نہ ہو تو اس کے حقوق ادا کرنے کی ممکنہ صورت کیا ہو سکتی ہے ؟
ایسی صورت میں محض اس کے انسان ہونے کا لحاظ کرتے ہوئے اسے کپڑے میں میں لپیٹ کر اُن کے مخصوص قبرستان میں اسے دفن کر دیا جائے۔
ففي الدر المختار: (الكافر الأصلي) أما المرتد فيلقى في حفرة كالكلب (عند الاحتياج) فلو له قريب فالأولى تركه لهم (من غير مراعاة السنة) فيغسله غسل الثوب النجس ويلفه في خرقة ويلقيه في حفرة وليس للكافر غسل قريبه المسلم اھ (2/ 230)
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله فيلقى في حفرة) أي ولا يغسل، ولا يكفن؛ ولا يدفع إلى من انتقل إلى دينهم بحر عن الفتح اھ (2/ 230)
وفي بدائع الصنائع: ومنها أن يكون الميت مسلما حتى لا يجب غسل الكافر؛ لأن الغسل وجب كرامة وتعظيما للميت، والكافر ليس من أهل استحقاق الكرامة والتعظيم اھ (1/ 302)
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0