کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا خاوند یا بیوی کی فوت ہونے کی صورت میں کیا بیوی اور میاں کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے؟ کیا ایک دوسرے کا منہ دیکھ سکتے ہیں؟ کیا شوہر بیوی کے جنازہ کو کندھا دے سکتا ہے؟ کیا شوہر بیوی کو قبر میں اتار سکتا ہے؟ کیا مجبوری میں میاں بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
اگر عورت کا انتقال ہوجائے تو خاوند اس کے حق میں اجنبی مرد کے حکم میں ہوجاتا ہے اس لئے کہ نکاح ختم ہوچکا ہوتا ہے، لہٰذا خاوند کا اپنی فوت شدہ بیوی کو غسل دینا یا اسے چھونا جائز نہیں، البتہ اس کا چہرہ دیکھنا یا محارم کی عدمِ موجودگی میں اسے قبر میں اُتارنا جائز اور درست ہے۔
اور اگر خاوند کا انتقال ہوجائے تو عدت ختم ہونے تک بیوی اسی کے نکاح میں رہتی ہے اس لئے اسے اپنے مردہ خاوند کو چھونا، اس کی طرف دیکھنا اور اگر کوئی مرد غسل دینے والا نہ ہو تو اسے غسل دینا بھی جائز ہے، البتہ اگر کوئی عورت غسل دینے والی موجود نہ ہو تو عورت کو مرد غسل نہیں دے سکتا نہ شوہر اور نہ کوئی دوسرا محرم بلکہ اس صورت میں شوہر اپنے ہاتھوں پر کوئی کپڑا وغیرہ لپیٹ کر اسے تیمم کرائے گا۔
وفی الدر: ویمنع زوجہا من غسلہا ومسہا لا من النظر إلیہا علی الأصح (إلی قولہ) وہی لا تمنع من ذٰلک أی من تغسیل زوجہا دخل بہا أولا۔ الخ
وقال فی الرد: المرأۃ تغسل زوجہا لإن اباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح فتبقی ما بقی النکاح۔ الخ (ج۲، ص۱۹۸)۔
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0