اگر کسی جگہ فوتگی ہو جائے تو تین دن کے بعد تعزیت کے لیے جانا کیسا ہے؟ بعض لوگ کہتےہے کہ پرانی بات یاد کرنے کی طرح ہوگی ،براہِ کرم اس وقت آدمی کو کیا کرنا زیادہ بہتر ہے؟
کسی کے مرنے پر اس کے اہل و عیال کے پاس جاکر تعزیت کرنا مسنون اور احادیث مبارکہ میں اس کے بہت زیادہ فضائل وارد ہوئے ہیں اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اہل میت کے سامنے ایسی باتیں کہی جائیں، جن سے ان کے دل کو تسلی ہو اور ان کا بوجھ ہلکا ہو جائے اور شریعت مطہرہ نے تعزیت کی مدت تین دن مقرر کی ہے، البتہ اگر کوئی مسافر ہو یا تین یوم کے بعد معلوم ہو تو وہ اس مدت کے بعد بھی تعزیت کر سکتا ہے۔
وفى الدر المختار: وبالجلوس لها في غير مسجد ثلاثة أيام، وأولها أفضل. وتكره بعدها إلا لغائب. وتكره التعزية ثانيا، وعند القبر، وعند باب الدار؛ ويقول عظم الله أجرك، وأحسن عزاءك، وغفر لميتك اھ (2/ 241)
وفي حاشية ابن عابدين: الجلوس في المصيبة ثلاثة أيام للرجال جاءت الرخصة فيه، ولا تجلس النساء قطعا اهـ (2/ 241)
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0