کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پر سورہ بقرہ کے اول و آخر جو کہ حدیث ِابن عمرؓ سے ثابت ہے، بعض حضرات اس کو ناجائز اور بدعت کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حدیثِ ابنِ عمرؓ موقوف ہے، اس سے استدلال درست نہیں ہے، لہٰذا آپ حضرات مہربانی فرما کر قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی تفصیلی وضاحت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ مذکورہ حدیث "مشکاۃ المصابیح" میں مرفوعاً نقل کیا گیا ہے، تاہم اگر اُس کو موقوف بھی مان لیا جاوے، تب بھی اُس سے استحباب ثابت ہوتا ہے، لہٰذا مذکورعمل کو ناجائز اور بدعت کہنا سراسر جہالت پر مبنی حرکت ہے ،اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي – صلی اللہ علیه وسلم - يقول: «إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة» . رواه البيهقي في شعب الإيمان. (1/ 538)-
و فی حاشية ابن عابدين: وكان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة۔ (2/ 237)-
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0