کیا حضورﷺ قبر میں زندہ ہیں؟ کیونکہ کچھ لوگ کہتے ہیں شہید سے زیادہ درجہ ہے اُن کا، کیا اُن کو رزق ملتا ہے؟ اللہ کے نیک بندے جو مر چکے ہیں، وہ دعا کرسکتے ہیں لوگوں کیلیے؟ جیسا کہ لوگ مزاروں پر جاکر اُن سے دُعا مانگتے ہیں ، کیا چادر چڑھانا قبروں پر جائز ہے ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺکو اپنی قبرِاطہر میں جو حیات حاصل ہے، وہ شہداء کی حیات سے بدر جہا زیادہ ہے اور اُن کو رزق بھی دیا جاتاہے، مگر ان کی یہ حیات برزخی ہے عام آدمی کو اس حیات دنیوی میں اس کا شعور نہیں ہوتا، جبکہ اللہ والوں یا عام قبور پر چادریں چڑھانا ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے، اس سے احتراز چاہیے ۔
جہاں تک بزرگوں سے دعاؤں کی درخواست کا تعلق ہے، ان کی زندگی میں اُن کے پاس جاکر دعا کی درخواست کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، مگر اُن کی موت کے بعد قبر کے پاس اس طرح درخواست کر نے میں شائبہ شرک ہے،جس سے احتراز لازم ہے ۔
فی زوائد مسند أبی یعلیٰ: عن انس بن مالك أن رسول اللہ - صلی اللہ علیه وسلم - قال: الأنبیاء أحیاء فی قبورھم یصلون ۔(2/147)۔
قال الحافظ ابن حجر بعد ۔۔۔ الأحادیث فی حياة الأنبياء، قلت وإذا ثبت أنهم أحیاء من حیث العقل فإنہ یقویہ من حیث النظر کون الشهداء أحیاء بنص القرآن والأنبیاء أفضل من الشہداء اھ (۶/ ۳۸۸)
و فی رد المحتار:[تتمة] كره بعض الفقهاء وضع الستور والعمائم والثياب على قبور الصالحين والأولياء قال في فتاوى الحجة وتكره الستور على القبور اهـ. ( ۶/ ۳۶۳)
قال اللہ تعالیٰ: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ہُوَالْبَاطِلُ وَاَنَّ اللہَ ہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ﴾ الحج:[ ٦٢ ]
و فی مشكاة المصابيح: وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم- قال في مرضه الذي لم يقم منه : "لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد۔ متفق عليه ( ۱/ ۱۵۷) واللہ أعلم بالصواب!
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0