کیا حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں میت کے چہرے کی عوامی زیارت ثابت ہے؟ اور حضرت محمدﷺ کے وصال کے بعد ان کا چہرہ کس کس نے دیکھا؟
مردے کا چہرہ دیکھنا جائز ہے اور خود آپ ﷺ کا چہرۂ انور وفات کے بعد صحابہ کرام نے دیکھا اور بوسہ بھی دیا ، مگر اس کے لئے ایسا اہتمام کرنا جیسا کہ فی زماننا رائج ہے کہ جنازہ سے قبل یا بعد چار پائی رکھ کر دور سے آنے والوں کا انتظار کیا جاتا ہے ، شرعاً ثابت نہیں، بلکہ محض ایک رسم ہے، جس کے اہتمام سے احتراز چاہیئے ۔
فی سنن الترمذي : عن القاسم بن محمد ، عن عائشة ، أن النبي صلى الله عليه و سلم قبل عثمان بن مظعون و هو ميت و هو يبكي ، أو قال : عيناه تذرفان . و في الباب عن ابن عباس ، و جابر ، و عائشة ، قالوا : إن أبا بكر قبل النبي صلى الله عليه و سلم و هو ميت اھ (2/ 305)-
و في مصنف ابن أبي شيبة : عن عبد الله البهي ، مولى آل الزبير ، أن أبا بكر جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم بعدما قبض ، و كشف عن وجهه ، فأكب عليه فقبله ، و قال : «بأبي أنت و أمي ما أطيب حياتك ، و أطيب ميتتك» اھ (3/ 57)-
و في الفقه الإسلامي و أدلته : و جاز تقبيل الميت تبركاً و مودة و احتراماً ؛ لأن رسول الله صلّى الله عليه و سلم قبَّل عثمان بن مظعون ، و قبل أبو بكر النبي بعد موته ، و إن أحب أهل الميت أن يروه لم يمنعوا ، لقول جابر لما قتل أبي جعلت أكشف الثوب عن وجهه و أبكي . (2/ 600)-
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0