کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ میری دادی چند دن پہلے انتقال کرگئیں مرحومہ کی عمر تقریباً ۹۰ سال تھی جو تقریباً پچھلے تین سال سے بیمار تھیں، زبان میں توتلا پن آگیا تھا، مگر عقل و حواس درست تھے، اب پوچھنا یہ ہے کہ (۱) پچھلے تین سال سے تقریباً انہوں نے نماز نہیں پڑھی اس بارے میں علماء حضرات کیا فرماتے ہیں؟
(۲) اسقاط کیا چیز ہے؟ آیا یہ جنازہ کے بعد دینا ضروری ہے؟
(۳) میری دادی نے میری زوجہ کے پاس تقریباً (۴۵۰۰) چار ہزار پانچ سو روپے بطورِ امانت رکھے تھے، جس میں مختلف لوگوں کے علاوہ گاؤں کے مدرسے کو بطور قرض حسنہ مبلغ (۲۰۰۰) دو ہزار روپے دئیے چونکہ ان کی موت اچانک واقع ہوئی، مگر میری زوجہ نے جو رقم اس کے پاس رکھی تھی، پوچھا کہ کیا اس رقم کو مدرسے میں دے دیں، اس کی بات کا مفہوم تھا، پھر جیسے تمہاری مرضی، اب اس بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں؟
(۴) جیسے کہ علماء کرام حضرات فرماتے ہیں تین دن مردے کے گھر میں آگ جلانا یعنی پکانا وغیرہ جائز نہیں، لیکن مہمان زیادہ ہوں، اور کوئی اس گھر کی ضیافت بھی نہ کرے، اور اگر کرے تو صرف گھر کے افراد کیلئے کافی ہو؟ تو کیا ایسی صورت میں گھر والے مہمانوں کیلئے کچھ پکانے کا انتظام کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(۵) قبر کو پختہ کرنے اور کتبہ لگانے کے بارے میں؟ کس حد تک قبر پختہ کرسکتے ہیں؟ نیز اس کے لئے چالیس (۴۰) دن ضروری ہیں؟ یا یہ ایک رواج ہے کہ یہ چالیس دن بعد قبر پختہ کرکے کتبہ لگادیا جائے؟
(۶) اگر کسی کا کوئی محرم مرد یا عورت فوت ہوجائے تو کیا خواتین کا قبرستان میں قبر کے پاس جانا درست ہے یا نہیں؟
(۱) صورت مسئولہ میں اگر سائل کی دادی اماں نے فوت شدہ نمازوں کے فدیہ دینے کی وصیت کی ہو تو ان کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات منہا کرنے اور اگر ان پر کچھ قرض وغیرہ ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد بقیہ مال کی ایک تہائی (۳/۱) کی حد تک ان کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے ان کی نمازوں کا فدیہ ادا کریں اس طور پر کہ ہر فرض نماز اور واجب کیلئے علیحدہ علیحدہ صدقہ فطر کی مقدار فدیہ دینا ضروری ہے، اور اگر انہوں نے کچھ وصیت نہ کی ہو تو اس صورت میں ورثاء پر فدیہ دینا واجب نہیں، ہاں اگر کوئی وارث اپنے طور پر مرحومہ کی طرف سے ان کی نماز روزوں کا فدیہ دے دے تو ﷲ تعالیٰ سے امید ہے کہ اسے قبول فرماکر آخرت کے مواخذہ سے مرحومہ کی نجات فرمادیں۔
(۲) مروجہ حیلۂ اسقاط بلاشبہ بدعت ہے اولاً تو اس لئے کہ اگر یہ کوئی کارِ خیر ہوتا تو نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ اس کے لئے زیادہ حقدار تھے کیونکہ ان کی شفقت عام مؤمنین کے ساتھ بہت بڑھی ہوئی تھی مگر باوجود اس کے ایسے لوگوں کے واسطے جن کے ذمہ نماز روزہ وغیرہ قضا واجب تھے ان حضرات نے یہ حیلہ تجویز نہیں فرمایا، علاوہ ازیں بعض فقہاء کرام سے جو اس کی اجازت منقول ہے وہ بھی اس وقت ہے جبکہ اتفاقاً کسی آدمی کیلئے ضرورت پڑجائے جبکہ عقیدۂ عوام کے فساد اور رسم بدعت کے پڑجانے کا خطرہ نہ ہو، اور جب یہ منکرات پر مشتمل ہو تو پھر اس کا ترک بالاتفاق ضروری ہوجاتا ہے، جیسا کہ آج کل بھی اس میں طرح طرح کے منکرات پیدا ہوگئے ہیں، کہ اولاً تو تملیکِ فقراء اس طرح کی جاتی ہے کہ اس سے تملیک متحقق نہیں ہوتی، دوسرے یہ کہ اس رسم کے پڑجانے سے عوام دلیر ہوجاتے ہیں کہ نماز روزہ وغیرہ سب کچھ حیلہ اسقاط سے ساقط ہوجائیں گے، نیز آج کل تو لوگوں نے اس کا ایسا التزام کر رکھا ہے کہ اسے کفن دفن کے اعمال میں سے مستقل ایک عمل شمار سمجھتے ہیں، جو کہ یقینا بدعت کہلاتا ہے لہٰذا اس قسم کے حیلۂ اسقاط سے احتراز کرنا ضروری ہے۔
(۳) اس سوال سے سائل کی کیا غرض ہے ،وہ واضح نہیں ،لہٰذا اس سوال کی پوری تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال بھیج دیا جائے تو اس کا جواب بھی انشاء اﷲ دے دیا جائے گا۔
(۴) میت کے گھر میں تین دن تک آگ جلانے کے ناجائز ہونے کا قول درست نہیں، البتہ جب کسی کے ہاں میت ہوجائے تو ان کو چونکہ غم اور صدمہ وغیرہ لاحق ہوتا ہے اس لئے ان کے اقرباء وغیرہ کیلئے مستحب اور بہتر ہے کہ تین دن تک میت کے ہاں کھانا بھیجیں، اور اگر ان کے پڑوسی یا اقرباء میں سے کوئی بھی کھانا نہ بھیجے تو خود انہیں بھی کھانا وغیرہ بنانا جائز اور درست ہے، اور آج کل اہل میت کے ہاں ضیافت کھانے کی جو رسم پڑگئی ہے قطعاً جائز نہیں بلکہ واجب الترک ہے، البتہ اہل میت کے وہ عزیز واقارب جو دور دراز سے آئے ہوں اور اسی دن ان کی واپسی مشکل ہو یا اہل میت کی تسلی کیلئے ان کا ٹھہرنا ضروری ہو تو وہ اگر میت کے گھر کھانا کھالیں تو اس کی گنجائش ضرور ہے، اور باقی تمام تعزیت کرنے والوں کو اپنے اپنے گھر واپس جانا چاہئے انہیں میت کے گھر ٹھہرنا اور ضیافت کھانا درست نہیں۔
(۵) پختہ قبر بنانا جائز نہیں البتہ اگر بارش وغیرہ کی وجہ سے قبر کی مٹی کے بہہ جانے یا چوپایوں وغیرہ کے خراب کرنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں صرف پتھر جوڑ جوڑ کر بغیر سیمنٹ وغیرہ کے استعمال کئے رکھ دیں تو اس کی گنجائش ہے، اور کتبہ لگانے کی گنجائش ہے اور اس کے لئے دن یا تاریخ وغیرہ کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔
(۶) خواتین کے لئے اپنے محرم کے ساتھ شرعی پردہ کا لحاظ رکھتے ہوئے قبرستان جانا جائز ہے مگر عام طور پر اس کا لحاظ نہیں کیا جاتا نیز فتنہ بھی عام ہے اس لئے انہیں قبرستان جانے سے بھی احتراز کرنا چاہئے۔
فی الدر المختار: ولو مات وعلیہ صلوٰت فائتۃ واوصٰی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بُر کالفطرۃ۔ اھـ (ج:۲، ص:۷۲)
فی رد المحتار: قال فی الفتح: ویستحب لجیران اہل المیت والاقرباء الاباعد تہیِئۃ طعام لہم لیشبعہم یومہم ولیلتہم (الٰی قولہ) وقال ایضًا: ویکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اہل المیت لانہ شرع فی السرور لافی الشرور وہی بدعۃ مستقبحۃ۔ الخ (ج:۲، ص:۲۴۰)
قال الشامی: اولا یرفع علیہ بناء أی یحرم لو للزینۃ ویکرہ لو للاحکام بعد الدفن وفی الدر المختار: لا بأس بالکتابۃ۔(ج:۲، ص:۲۳۸)
وفی السراج: وأما النساء اذا أردن زیارۃ القبور إن کان ذٰلک لتجدید الحزن والبکاء والندب کما جرت بہ عادتہن فلا تجوز لہن الزیارۃ وعلیہ یحمل الحدیث الصحیح لعن ﷲ …… القبور وإن کان للاعتبار والترم والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین من غیر ما یخالف الشرع فلا بأس بہٖ إذا کن عجائز وکرہ ذٰلک للشابات کحضورہن فی المساجد للجماعات۔ اھـ (الطحطاوی: ص:۳۴۱) وﷲ اعلم!
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0