کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ امام مسجد کی داڑھی شرعی طور پر کس حد تک ہونی چاہئے؟ قرآن و سنت سے جواب دیں۔ بینوا توجروا!
نوٹ: نیز جس امام صاحب کی داڑھی اب ظہور پذیر ہورہی ہو اس کیلئے بھی امامت کا حکم شرعی بیان فرمائیں، اور ان میں سے کس امام کو مقرر کرنا بہتر ہے، اور مشت سے بڑی داڑھی والے کو مقرر کرنے کے بارے میں بھی وضاحت فرمادیں۔ شکریہ!
مذکورہ سوال اور سائل کے زبانی بیان سے معلوم ہوگیا ہے کہ مذکورہ مقام پر امام کے انتخاب کا مسئلہ ہے، سو اس بارے میں شرعاً یہ ترتیب رکھی گئی ہے کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو باشرع،متقی وپرہیزگار ہونے کے ساتھ مسائلِ نماز سے بخوبی واقف ہو، پس اگر موجودہ تینوں حضرات اس میں برابر ہوں تو پھر ان تینوں میں سے امامت کا زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو ان میں سے قرآنِ کریم اچھا پڑتا ہو، اور اگر اس میں بھی برابر ہوں یعنی سب ہی قرآن کریم تجوید سے پڑھتے ہوں تو پھر ان میں سے امامت کا حقدار وہ شخص ہو گا جو ان میں سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہو، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو پھر ان میں سے جو بڑی عمر والا ہو، وغیرہ۔
البتہ جہاں تک داڑھی کا مسئلہ ہے تو شرعاً ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے، اور اس سے کم کرنا جائز نہیں، لہٰذا جس شخص کی داڑھی ایک مشت یا اس سے بڑی ہو، اور وہ جو ایک مشت سے زائد مقدار کو کاٹتا ہو اور وہ جس کی داڑھی ابھی نکل رہی ہو اور وہ کاٹتا بھی نہ ہو، تو ان تینوں میں سے ہر ایک کو امامت کیلئے منتخب کرنا جائز ہے بشرطیکہ ان میں سے کسی میں بھی کراہتِ امامت کی کوئی اور وجہ نہ ہو، البتہ جہاں تک ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا مسئلہ ہے تو اس بارے میں جو ترتیب اوپر لکھ دی گئی ہے اسی کا لحاظ کرنا چاہئے۔
فی الہدایۃ: وأولٰی الناس بالامامۃ أعلمہم بالسنۃ فإن تساووا فاقرؤہم فإن تساووا فأورعہم فان تساووا فأسنہم۔ الخ (ج۱، ص۱۰۱)
وفی رد المحتار: وسئل العلامۃ الشیخ عبدالرحمن ابن عیسٰی المرشدی عن شخص بلغ من السن عشرین سنۃ وتجاوز حد الانبات ولم ینبت عذارہ، فہل یخرج بذٰلک عن حد الأمر دیّۃ إلٰی قولہ فأجاب بالجواز من غیر کراہۃ وناہیک بہ قدوۃ۔ (ج۱، ص۵۶۲) ………………… واﷲ اعلم!