امامت و جماعت

جعلسازی سے گورنمنٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم؟

فتوی نمبر :
59224
| تاریخ :
2000-02-02
عبادات / نماز / امامت و جماعت

جعلسازی سے گورنمنٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ(۱) ایک گاؤں کے امام صاحب جوکہ عالمِ دین بھی ہیں، گاؤں کے ایک غریب آدمی نے کافی کوشش فرماکر اپنے لئے عربی کے استاد ہونے کے لئے راستہ ہموار کیا اور گورنمنٹ کی لسٹ میں اسی کا نام درج ہوگیا اور چند دنوں کے بعد آڈر ہونے والا تھا، مسجد کے امام صاحب نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے اور اپنی عمر اصل سے کم کراکر اسی غریب آدمی کا نام گورنمنٹ لسٹ سے کاٹ کر اپنا نام درج کرایا اور اس طرح وہ نوکری امام صاحب نے حاصل کرلی، جناب اس کا شرعی حکم بتائیں کہ امام صاحب کا یہ کام جائز ہے یا نہیں؟ واضح ہو کہ شخصِ مذکور اس نوکری کا اہل بھی تھا اور اس سے بہتر کسی دوسرے نے اس نوکری کیلئے درخواست بھی نہیں دی تھی؟
(۲) امام صاحب کے صاحبزادے جو کہ کئی سالوں سے رمضان شریف میں تراویح کی نماز میں قرآن سناتے ہیں اور داڑھی کتراتے ہیں ، اہلِ گاؤں یعنی نمازیوں نے امام صاحب کی توجہ صاحبزادے کی طرف دلائی اور ایک فتویٰ بھی ان کی خدمت میں پیش کیا کہ داڑھی کتروانے والے کی امامت جائز نہیں، مگر امام صاحب نے صاف کہا کہ اسی کی امامت جائز ہے حالانکہ اس سے بہتر حفاظ میسر تھے۔
(۳) امام صاحب کے بھائی کوامام صاحب کی وجہ سے زکوٰۃ کمیٹی کا چیرمین بنایا، اور زکوٰۃ فنڈ میں مدرسہ اور گاؤں کے غریب لوگوں کی امداد داخل تھی، کسی غریب تک اس کا حق نہیں پہنچا اور خصوصاً مدرسہ کی رقم کا نام و نشان نہیں ہے، لوگ اساتذہ کو گاؤں سے چندہ کرکے تنخواہ دیتے ہیں، تحقیق کے مطابق حکومت نے اساتذہ کیلئے رقم دی تھی مگر اساتذہ کو وہ رقم نہیں دی گئی، لوگوں نے امام صاحب کو بھائی کے اس کام کی طرف توجہ دلائی، لیکن امام صاحب نے کوئی توجہ نہیں دی حالانکہ امام صاحب خود مدرسہ کا مہتمم بھی ہیں، اور یہ تمام کام ان کے نوٹس میں ہے۔
(۴) امام صاحب کے بھائی نے گاؤں کے لوگوں کی زمین کو جن پر لوگوں کا پچاس سال سے قبضہ ہے، اپنے نام انتقال بنانا چاہا، جس کا علم کسی ذریعے سے گاؤں کے لوگوں کو ہوگیا، اور لوگوں نے عدالت میں جاکر یہ کارروائی رکوادی، اب لوگوں نے بڑے ادب اور احترام کے ساتھ امام صاحب سے گزارش کی کہ اب آپ کے بھائی کا ظلم انتہا کو پہنچ چکا ہے، یہ سب کچھ آپ کی وجہ سے ہے کہ آپ ہمارے امام ہیں وگرنہ آپ کے بھائی میں یہ جرأت کہاں تھی۔
گاؤں کے تمام لوگوں نے مسجد میں بیٹھ کر امام صاحب سے کہا کہ آپ اب ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا کہ اپنے ظالم بھائی کے ساتھ؟ امام صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ ہوں، آپ لوگ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرلیں تو پھر گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ اس ظلم کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے آپ ہماری امامت چھوڑدیں، اور پھر لوگوں نے جس میں تمام چھوٹے بڑے سب داخل ہیں متفقہ فیصلہ دیا اور امام صاحب کو امامت سے سبکدوش کردیا۔
کیا مندرجہ بالا سوالات کی روشنی میں اور سوال نمبر چار کی روشنی میں گاؤں کے لوگوں کا یہ اقدام جائز ہے یا کہ نہیں؟ تفصیلاً جواب سے آگاہ کریں۔
نوٹ: گاؤں کے لوگوں نے دوسرا امام مقرر کردیا ہے جو کہ سابقہ امام فرماتے ہیں کہ اس امام کے پیچھے نماز جائز نہیں اور سابقہ امام صاحب جماعت کے بعد مسجد میں اکیلے نماز پڑھتے ہیں، اس طرح لوگوں کو شک میں ڈال دیا گیا ہے، جناب امام صاحب کے اسی اقدام پر بھی روشنی ڈالیں کہ شرعی نقطۂ نظر سے اس کی کیا حیثیت ہے؟ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی صاحبِ حق کا حق غصب کرنا اور بزور بازو اس پر قابض ہوجانا اور اسے واپس نہ کرنا قطعاً جائز نہیں، سوال نمبر ایک میں مذکور شخص اگر واقعۃً اس نوکری کا اہل تھا اور اس سے بہتر کسی دوسرے شخص نے درخواست بھی نہیں دی تھی اور نہ اس نے رشوت دے کر درخواست منظور کرائی تھی تو ایسی صورت میں امام صاحب موصوف کا جعلسازی کے ذریعے کسی دوسرے کے حق کو چھیننا قطعاً جائز نہیں بلکہ ان کا یہ عمل موجبِ فسق ہے۔
اسی طرح بقیہ امورِ مذکورہ میں بھی امام موصوف کا فرض بنتا تھا کہ مظلوم صاحبِ حق کی حمایت میں اپنے ظالم بھائی کی طرفداری نہ کرتے، اس لئے کہ ایسے شخص کے بارے میں جولوگوں کا حق دبالیتا ہے احادیثِ مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں، لہٰذا ان پر واجب ہے کہ ان کی وساطت سے جن جن لوگوں کا حق غصب کیا گیا ہے اپنی پوری کوشش کرکے ان کا حق انہیں واپس دلائیں اور امام مذکور چونکہ امورِ مذکورہ کی بناء پر فاسق ہیں اس لئے جب تک وہ ان امور سے توبہ واستغفار نہ کریں اور صاحبِ حق کو اس کا حقِ شرعی واپس نہ کریں تو ان کی اقتداء میں نماز مکروہِ تحریمی ہے۔
مگر جب سب گاؤں والوں نے متفقہ طور پر شرائطِ اجارہ کے تحت انہیں منصبِ امامت سے برطرف کردیا ہے تو اب ان کا نئے امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنا اور اس نئے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے پر عدمِ صحت کا حکم لگانا قطعاً درست نہیں اس لئے انہیں چاہئے کہ اپنے اس عمل اور اس رویہ سے احتراز کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: ویکرہ امامۃ عبد وأعربی، وفاسق وأعمی ونحوہ الأعشی۔اھـ(ج:۱، ص:۵۵۹)
وفی المشکوٰۃ: عن سعید بن زید قال: قال: -رسول اﷲ ﷺ -من أخذ شبرًا من الارض ظلما فإنہ یطوّقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین۔ اھـ
وقال رسول اﷲ ﷺ ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امریٔ إلا بطیب نفسٍ منہ۔الخ(رواہ البیہقی:ج:۱، ص:۲۵۴).اللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59224کی تصدیق کریں
0     562
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات