کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ ایک شخص مسافر ہے جس کو حالتِ سفر میں چار رکعت والی نماز دو رکعت پڑھنے کا حکم ہے وہ شخص کسی مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کیلئے گیا مثلاً ظہر کا وقت تھا، اس شخص نے امام کو تیسری رکعت کے رکوع کے حالت میں پایا اور جماعت کے ساتھ شریک ہوگیا اب اس مسافر آدمی کو یہ بات معلوم نہیں کہ امام مقیم ہے یا مسافر ، کیونکہ اگر امام مقیم ہے تو پھر اس مسافر کو بھی چار رکعت پڑھنے کا حکم ہے کہ امام سلام پھیرلے تو یہ مسافر شخص کھڑا ہوکر اپنی چار رکعت پوری پڑھ لے اور اگر امام مسافر ہے تو پھر یہ مسافر بھی سلام پھیر کر اپنی دو رکعت والی نماز پڑھے گا ،لیکن بات یہ ہے کہ اس مسافر شخص کو امام کے بارے میں معلوم نہیں تو اب یہ مسافر امام کے سلام پھیرنے کے بعد کیا کرے گا ،آیا یہی دو رکعت جس کو اس نے باجماعت پڑھی ہیں یا چار رکعت پوری کرکے سلام پھیرے گا؟
برائے کرم از روئے شریعت اس مسئلے کی وضاحت فرماکر مشکور فرمائیں۔
واضح ہو کہ اس قسم کی فرضی صورتوں کا جواب نہیں دیا جاتا، تاہم اگر کسی کو واقعۃً ایسی صورت پیش آئی ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو امام کی ذمہ داری ہے کہ مسافر ہونے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد اپنے مسافر ہونے کا اعلان کردے ،تاکہ مقیم اپنی بقیہ نماز پوری کرلیں، اگر امام اعلان نہ کرے تو مسافر مقتدی کو چاہیئے کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت مزید پڑھ کر سلام پھیرے اب اگر اسے معلوم ہو کہ امام مقیم تھا تو اس کی بھی چار رکعت پوری ہوئیں، ورنہ دو رکعت نفل ہوجائیں گی۔
فی الھندیۃ : ویستحب للإمام أن یقول أتموا صلاتکم فإنا قوم سفر کذا فی الہدایۃ۔(ج 1 ص 42)
وفی التنویر: فلو أتم مسافر إن قعد فی الاولٰی تم فرضہ وأساء وما زاد نفل وإن لم یقعد بطل فرضہ۔ اھـ(ج۲، ص۱۲۸)۔