امامت و جماعت

لواطت کے مرتکب امام اور مقتدی کی کا حکم

فتوی نمبر :
59193
| تاریخ :
2000-08-05
عبادات / نماز / امامت و جماعت

لواطت کے مرتکب امام اور مقتدی کی کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ اگر کسی نے دوسرے کے ساتھ قومِ لوط والا عمل کیا تو پھر ایک دوسرے کے اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ خواہ فاعل ہو یا مفعول ہو یعنی دونوں کے آپس میں اقتداء کرنا جائز ہے یا نہیں؟
نوٹ: دین میں کوئی شرم نہیں ہے یہ مسئلہ کسی نے مجھ سے طلب کیا، لیکن میں نے اس سے کہا کہ جائز نہیں، ابھی اس نے دوبارہ خط بھیجا لیکن مجھے پتہ نہیں تھا۔ آپ کا شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں دونوں شخص اپنے اس فعلِ قبیح پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرلیں، اور اگر قرائن سے بھی ان کی توبہ صحیح معلوم ہو تی ہو ، اس طور پر کہ اس فعلِ بد سے اور اس کے مقدمات سے کلی طور پر اجتناب کرتے ہوں تو ان کے پیچھے نماز بلاکراہت جائز ہے ، خواہ ایک دوسرے کی امامت کریں یا دیگر اشخاص کی امامت کریں، اس لئے کہ:التائب من الذنب کمن لا ذنب لہٗ ، البتہ اگر یہ ایسے بدنام ہوچکے ہوں کہ لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے احتراز کرتے ہوں تو ایسی صورت میں انہیں امام نہیں بنانا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

لفضیلۃ الاورع من غیرہ وکون تقلیل الجماعۃ مکروہا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59193کی تصدیق کریں
0     1261
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات