امامت و جماعت

غیر اخلاقی کام کے مرتکب امام کے پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
59189
| تاریخ :
2000-03-08
عبادات / نماز / امامت و جماعت

غیر اخلاقی کام کے مرتکب امام کے پیچھے نماز کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱) ہماری مسجد کے امام صاحب جو پہلے شادی شدہ تھے مگر انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جس کووجہ سے اب امام صاحب کو کوئی لڑکی نہیں دیتا اب ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے جبکہ امام صاحب جوان ہیں تقریباً ان کی عمر ۳۵ سال ہے؟
(۲) امام صاحب سے اکثر لوگ معقول وجہ سے ناراض ہیں مثلاً ٹی وی دیکھنے کی وجہ سے وغیرہ وغیرہ ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
(۳) آدمی کیلئے سونا یا چاندی کی انگوٹھی کتنے مقدار کی پہننا جائز ہے اگر دو انگوٹھیاں جن کی مقدار تقریباً ڈھائی ڈیڑھ تولہ ہو تو اس شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ انگھوٹی چاندی کی ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) طلاق دینا کوئی ایسا فعل نہیں جس کی بناء پر امام موصوف کی امامت متأثر ہو لہٰذا مذکور امام صاحب موصوف اس کے علاوہ اگر کسی دوسرے امرِ محظور( یعنی ممنوع کام) کے مرتکب نہ ہوں تو ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
(۲) امام صاحب موصوف اگر واقعۃً ٹی۔ وی دیکھنے جیسے قبیح امور کا ارتکاب کرتے ہیں تو جب تک اپنے اس فعل سے احتراز اور توبہ واستغفار نہ کریں تو ان کی اقتداء میں نمازپڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام نہیں بنانا چاہئے، تاہم جب تک کسی نیک و صالح اور متبع شریعت امام کا انتظام نہ ہوسکے تو اکیلے پڑھنے سے اسی کی اقتداء میں نماز پڑھ لینا چاہئے، اور اگر امام موصوف ان امور قبیحہ کے مرتکب نہ ہوں جیسا کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اپنی کسی ذاتی رنجش کی بناء پر امام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہر قسم کے فقرے اس پر کسے جاتے ہیں، تو اگر ایسی صورت حال ہو تو ان تنقید کرنے والے حضرات کو اپنے فعل سے احتراز کرنا چاہئے، اور ان کی شخصیت کو متأثر کرنے کی بناء پر امام موصوف سے معذرت بھی کرنی چاہئے اور آئندہ کیلئے اس قسم کی باتوں سے مکمل احتراز بھی ضروری ہے۔
(۳) مردوں کیلئے سونے کا استعمال حرام ہے البتہ ضرورت کی بناء پر مرد چاندی کی انگوٹھی استعمال کرسکتا ہے مگر اس کی مقدار ایک مثقال (یعنی ساڑے چار ماشے) سے زیادہ نہ ہو، لہٰذا اس مقدار سے زائد انگوٹھی کے استعمال سے احتراز کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر: ولو أم قومًا وہم لہ کارہون إن الکراہۃ لفساد فیہ أولانہم احق بالإمامۃ منہ کرہ لہ ذٰلک تحریمًا لحدیث أبی داؤد ’’لا یقبل ﷲ الصلوٰۃ من تقدم وہم لہ کارہون‘‘۔ اھـ
وفیہ ایضًا: وفاسق واعمٰی، وقال الشامی تحت قولہ وفاسق: من الفسق وہو الخروج عن الإستقامۃ۔ اھـ (ج:۱، ص:۵۶۰)
فی الدر: ولا یزیدہ علٰی مثقال وقال الشامی: تحت ہذہ العبارۃ: وقیل لا یبلغ بہ المثقال ذخیرہ؛ أقول: ویؤیدہ نص الحدیث السابق من قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ’’ولا تتممہ مثقالًا‘‘.اھـ وﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59189کی تصدیق کریں
0     1266
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات