کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(۱) جنازہ فرضِ کفایہ ہے، اور یہ چار تکبیر ہے، خدانخواستہ امام صاحب بھول کر پانچویں تکبیر کہہ دیں, تو کیا نمازِ جنازہ پانچ تکبیر میں ہوجائے گی یا نہیں؟ کیونکہ ہم لوگ بے علم ہیں ,معمولی سی غلطی سے الجھن میں پڑجاتے ہیں۔
(۲) ایک مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد دوسری جگہ اُسی میت پر دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے ،تو کیا یہ نمازِ جنازہ ہوگئی یا نہیں؟ کیا دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے یا حرام ہے؟
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں مطلع فرمائیں!
(۱) صورتِ مسئولہ میں اگر امام پانچویں تکبیر کہہ دے، تو مقتدیوں کو چاہیئےکہ، اس تکبیر میں امام کا اقتداء نہ کریں، بلکہ انتظار کریں، اور امام کے ساتھ سلام پھیردیں، بہرحال اگر بھول کر کسی نے نمازِ جنازہ میں پانچ تکبیریں کہہ دیں، تو نمازِ جنازہ ادا ہوجائے گی، البتہ آئندہ کیلئے اس سے احتیاط لازم ہے۔
(۲) نمازِ جنازہ کا تکرار جائز نہیں ،البتہ اگر پہلی نمازِ جنازہ میں میت کا کوئی ولی شریک نہ ہوا ہو ، اور وہ اس پر دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا چاہے، تو ولی کے لئے شرعاً گنجائش ہے کہ، وہ دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھ لے، اور یہ پڑھنا خواہ اسی شہر میں ہو یا دوسرے شہر میں بہر صورت جائز ہے، تاہم جن حضرات نے ایک مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھ لی ہو ، انہیں دوبارہ جماعت میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
ففی الخانیة: وإذا کبر الإمام فی صلاۃ الجنازۃ خمسًا عن أبی حنیفة فیه روایتان۔ المختار أن لا یتابعه فی التکبیرۃ الخامسة وینتظر فإذا سلم سلم به اھ(١٩٢/١)
وفي الهندية: ولا یصلی علٰی المیت الا مرۃ واحدۃ والتنفل بصلاۃ الجنازۃ غیر مشروع کذا فی الایضاح (الٰی قوله) ولو صلی علیه الولی و للمیت أولیاء اٰخر بمنزلة لیس لہم ان یعیدوا کذا فی الجوہرة النیرة فان صلّٰی غیر الولی او السلطان اعاد الولی ان شاء کذا فی الہدایة اھ(١٤٣/١)واﷲ اعلم بالصواب!