کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ مسجد میں نمازِ جنازہ جائز ہے کہ نہیں؟ جبکہ مسجد کے سامنے یا پیچھے اتنی جگہ نہیں کہ نمازِ جنازہ پڑھایا جاسکے اور اس مسجد کے کچھ فاصلے پر دوسری مسجد بھی ہے جہاں نمازِ جنازہ مسجد کے باہر جگہ ہونے کی بناء پر پڑھائی جاتی ہے۔
اول مسجد کے امام صاحب کا یہ معمول ہے کہ جب کوئی جنازہ آتا ہے تو وہ اس جنازے کو مسجد کے محراب کے سامنے مسجد سے باہر رکھواکر خود امام صاحب اور مقتدی مسجد کے اندر نماز پڑھاتے ہیں، اور محراب کے سامنے والے دروازے کو کھول دیتے ہیں اس طرح دروازے سے جنازہ نظر آتا ہے، جبکہ امام صاحب نے جس جگہ فرض نماز ادا کی ’’نمازِ جنازہ کے وقت‘‘ تھوڑا آگے بڑھ جاتے ہیں اور ان کے ساتھ مقتدی بھی تھوڑا تھوڑا آگے بڑھ جاتے ہیں۔
امام صاحب کا قول ہے کہ اگر جگہ نہ ہوتو نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھاسکتے ہیں۔
آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ مندرجہ بالا وجوہات کی بناپر:
(۱) مسجد کے اندر نمازِ جنازہ پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ مسجد کے باہر جگہ نہیں ہے، لیکن چند قدم کے بعد ایک میدان ہے آیا اس مسجد کے اندر نمازِ جنازہ پڑھائی جائے یا مسجد کے باہر جو میدان ہے اس میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے۔
(۲) دوسری مسجد جس کا فاصلہ پہلی مسجد سے تقریباً ۱۲ گلیوں کے فاصلے پر ہے اور جگہ ہونے کے باعث نمازِ جنازہ اس مسجد کے باہر ادا کی جاتی ہے تو آیا ہم پہلی مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھائیں یا اس دوسری مسجد میں یا پہلی مسجد کے میدان میں؟ شریعت کے رو سے کیا پہلی مسجد کے امام صاحب کا یہ عمل درست ہے یا غلط؟
برائے مہربانی ہماری صحیح رہنمائی فرمائیں اﷲ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کی مذکورہ صورت فقہاء رحمہم اﷲ تعالیٰ کے درمیان مختلف فیہ ہے بعض اس کو مکروہ اور بعض بلاکراہت جائز قرار دیتے ہیں لہٰذا مذکورہ مسجد کے قرب و جوار میں نمازِ جنازہ ادا کرنے سے اس میدان میں نمازِ جنازہ پڑھنا بہرحال بہتر اور افضل ہے۔
وفی البزاریۃ: وإن کانت الجنازۃ وحدہا فی الخارج فمختلف والحلوانی علی اختیار الکراہۃ۔ اھـ (ج۱، علی ہامش الھندیۃ: ج:۴، صفحہ :۷۹) وﷲ اعلم!