کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز میں امام ایک آیت کو پڑھ کر اس آیت کے آخری جزء کو چھوڑ دے اور آگے والی آیت پڑھے اور نماز کو تمام کریے ، کیا یہ نماز درست ہو ئی یا نہیں، جبکہ ’’منیۃ المصلی‘‘ میں ہے کہ اگر آیت کو آخر سے چھوڑ دے اور دوسری آیت کو پڑھے تو نماز باطل ہوتی ہے ، اس مسئلہ کی قرآن وسنت کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
امام نے ایک آیت کا کچھ حصہ پڑھ کر توقف کے بعد دوسری جگہ سے پڑھنا شروع کیا ہو تو اس صورت میں سب کی نماز بلاشبہ درست ادا ہوگئی ہے اور اگر بغیر توقف کے ایسا کیا ہو، اور معنیٰ میں بھی کوئی فحش تبدیلی ہوجاۓ تو سب کی نماز فاسد ہو گئی ہے ورنہ نہیں۔
جبکہ ’’منیۃ المصلی‘‘ کی مذکور عبارت کی وضاحت کتاب نہ ہونے کی وجہ سے کرنا ممکن نہیں۔ البتہ اس کی عبارت لکھ دی جائے تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: (ومنها ذكر آية مكان آية) لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفا تاما ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لا تفسد (إلی قوله) أو قرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [البينة: 7] ووقف ثم قال {أولئك هم شر البرية} [البينة: 6] لا تفسد. أما إذا لم يقف ووصل ، إن لم يغير المعنی نحو أن يقرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [الكهف: 107] فلهم جزاء الحسنى مكان قوله {كانت لهم جنات الفردوس نزلا} [الكهف: 107] لا تفسد ، أما إذا غير المعنى بأن قرأ " إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية (إلی قوله) تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح هكذا في الخلاصة (1/ 80،81)۔
وفی غنیة المتملی فی شرح منیة المصلی المشتهر بحلبی كبیر: واما الحکم فی قطع بعض الكلمة عن بعض لإنقطاع نفس أو نسیان الباقی بأن اراد أن یقول الحمد لله فقال ’’ال‘‘ فانقطع نفسه أو نسی الباقی ثم تذکر فقال ’’حمد لله‘‘ أو لم یتذکر فترك الباقی وإنتقل إلیٰ کلمة أخری فقد کان الشیخ الإمام شمس الأئمة الحلوانی یفتی بالفساد فی مثل ذلك وبه قال بعض المشائخ ولکن عامة المشائخ قالوا لا تفسد لعموم البلوی فی انقطاع النفس والنسیان اھ (ص: ۴۸۰)۔