امامت و جماعت

امام جامع مسجد اور امام مسجدِ محلہ میں سے کون نمازِ جنازہ کی امامت کا حقدار ہے

فتوی نمبر :
59066
| تاریخ :
2006-05-26
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام جامع مسجد اور امام مسجدِ محلہ میں سے کون نمازِ جنازہ کی امامت کا حقدار ہے

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محلے کی بڑی جامع مسجد کے امام صاحب لوگوں کی نمازِ جنازہ کو آکر زبردستی پڑھاتے ہیں، جبکہ اسی مسجد کا امام صاحب بھی ہے۔ اور دلیل یہ دیتے ہیں بادشاہ ، قاضی نہ ہو تو جامع مسجد کا امام پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے، حالانکہ امامِ حی موجود ہے حتی کہ بعض لوگ جو وفات کر جاتے ہیں ان کی امامت پر راضی بھی نہیں اور ان کے زبردستی امامت کرنے پر اکثر لوگ راضی بھی نہیں ہے اور امامت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ایک جائے نماز مل جائےگا (مصلیٰ) اور حیلۂ اسقاط سے پیسے مل جائیں گے۔ براہِ مہربانی اس مسئلہ میں جو حقدار ہے اس کو ترجیح دے کر ، وجوہِ ترجیح احادیثِ نبویہ اور آثارِ صحابہ کے روشنی میں واضح فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو اور اس میں کسی قسم غلط بیانی اور جھوٹ کا بھی سہارا نہ لیا جا رہا ہو تو ائمہ کا یہ طرزِ عمل قطعاً نامناسب اور غلط ہے، کیونکہ اولاً تو امام الحی اولیٰ ہے اور ثانیاً: اس طرح کے طرزِ عمل سے اہلِ علم کی بدنامی اور تحقیر ہوتی ہے، لہٰذا اس طرزِ عمل سے احتراز چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: أولى الناس بالصلاة عليه السلطان إن حضر فإن لم يحضر فالقاضي ثم إمام الحي ثم الوالي، هكذا في أكثر المتون. (1/ 163)۔
وفی مصنف عبد الرزاق: عن معمر عن قتادة، عن الحسن: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من أم قوما، وهم له كارهون لم تجاوز صلاته ترقوته» (2/ 411)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59066کی تصدیق کریں
0     1221
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات