کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ میت کو دفنانے اور دعا کرنے کے بعد قبر کے دائیں طرف کھڑے ہوکر آذان دینا جائز ہے؟ اور یہ کہ نماز جنازہ پڑھانے کے بعد دعا کیلئے ہاتھ اُٹھانا رسول اﷲ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین سے ثابت ہے ؟ احادیث کی روشنی میں وضاحت فرمادیں اور عند ﷲ ماجور ہوں۔
جاننا چاہئے کہ حضور ﷺ نے میت کی مغفرت او رعذابِ قبر اور شیطان کی شرارت سے حفاظت کیلئے نمازِ جنازہ کو قبر میں رکھتے وقت بسم اﷲ وعلی ملۃ رسول اﷲ پڑھنے کی اور مٹی ڈالتے وقت تین مٹھی مٹی ڈالنے کی ، جس میں پہلی بار" منہا خلقنٰکم" دوسری بار" وفیہا نعیدکم" اور تیسری بار"و منہا نخرجکم تارۃ اخرٰی "پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور دفنانے کے بعد سرہانے کی طرف سورۃ بقرہ کی ابتدائی اور اور پاوں کی جانب آخری آیتیں پڑھ کر تھوڑی دیر تک قرآن شریف وغیرہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، تاہم قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے اس آذان اور دعا کا کوئی ثبوت نہیں جس کا سوال میں ذکر ہے نیز نمازِ جنازہ خود دعا ہے اس کے بعد مزید کسی دعا کی ضرورت نہیں، لہٰذا یہ دونوں امور محض بدعت ہیں ان سے احتراز ضروری ہے۔
وفی الدر: ولا یسن لغیرہا کعید۔ الخ
وفی الدر: ویسلم بلا دعاء بعد الرابعۃ تسلیمتین ناویا المیت مع القوم۔(ج۲، ص۲۱۳)۔