کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک معلمہ تجوید پڑھاتی ہیں جن کے پاس ہر مکتبۂ فکر کی عورتیں قرآن اور تجوید پڑھنے آتی ہیں وہاں مسئلہ یہ ہے کہ ماہواری کے ایام میں بھی وہ پڑھاتی ہیں اور طالبات کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ قرآن پڑھیں، ان کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث میں کہیں نہیں لکھا کہ ان دِنوں میں قرآن پڑھنا منع ہے، مجھے فتویٰ نہیں چاہیے قرآن و حدیث دکھاؤ۔
کیا ان کا یہ طرزِ عمل درست ہے اور کیا قرآن و حدیث میں اس بارے میں کچھ نہیں ہے؟ علاوہ ازیں اگر کوئی پڑھنے سے منع کرے تو وہ بضد ہوکر اس سے بلند آواز میں پڑھواتی ہیں۔
واضح ہو کہ فتویٰ قرآن و سنت سے خارج اور الگ حکم نہیں ہوتا بلکہ فتویٰ میں قرآن و سنت سے مستنبط احکام اور دلائل شرعیہ پر مشتمل کسی حکمِ شرعی کی وضاحت اور اس پر عمل کا طریقہ بیان کیاجاتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
’’یستفتونک قل اﷲ یُفتیکم فی الکلالۃ‘‘۔
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’یستفتونک فی النساء قل اﷲ یفتیکم فیہن‘‘۔
’’یعنی وہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ تمہیں ان کے بارے میں اللہ فتویٰ دیتا ہے‘‘۔
دیکھئے ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان اور حکم پر بھی لفظِ فتویٰ کا اطلاق کیا ہے، اس لئے کسی مرد یا عورت کا یہ کہنا کہ مجھے فتویٰ نہیں قرآن و حدیث دکھاؤ محض اس کی جہالت اور دین سے دوری پر مبنی ہے، جس سے احتراز لازم ہے ، ورنہ اندیشۂ ضلالت و کفر ہے۔
تاہم حائضہ عورت کے قرآن کریم کو چھونے اور اس کی تلاوت کی ممانعت پر قرآن و حدیث سے بھی چند دلائل تحریر کئے جاتے ہیں:
قال اﷲ تعالٰی: ’’لا یمسہ إلا المطہَّرون‘‘۔ (سورۃ الواقعۃ)
قال العلامۃ الآلوسی فی تفسیرہ:
والمراد بالمطہرون المطہرون عن الحدث الأصغر والحدث الأکبر بحمل الطہارۃ علی الشرعیۃ (الٰی قولہ) و ذالک لأنہا أفادت تعظیم شأن القرآن و کونہ کریما و المس بغیر طہارۃ مخل بتعظیمہ۔ (الٰی قولہ) نعم لا شک فی دلالۃ الآیۃ علی عظم شأن القرآن (الٰی قولہ) إلی قولہ فقد قیل بکفر من یفعل ذٰلک إلی أمور أخر مذکورۃ فی محالہا۔ (ج۲۷، ص۱۵۵)-
اور حدیث میں ہے:
’’الحائض لا تمس مصحفا‘‘۔ (دارمی کتاب اول باب ۸۴)-
ترجمہ: ’’حائضہ عورت قرآن نہیں چھوسکتی‘‘۔
اعلاء السنن میں ابن عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں:
’’لا یمسّ القرآن إلا طاہر‘‘۔ (ج۱، ص۳۷۹)-
ترجمہ: ’’قرآن کو نہ چھوئے مگر طاہر و پاکیزہ فرد‘‘۔
ترمذی میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’لا تقراء الحائض ولا الجنب شیأ من القرآن‘‘۔ (مشکوٰۃ: ص۴۹)-
ترجمہ: حائضہ اور جنبی بالکل قرآن نہ پڑھیں-
بدائع الصنائع میں ہے:
’’واما حکم الحیض والنفاس فمنع جواز الصلوٰۃ والصوم وقراء ۃ القرآن ومس المصحف الا بغلاف ودخول المسجد والطواف بالبیت‘‘۔ (ج۱، ص۴۴)-
اور حائضہ عورت کے قرآن کی تلاوت سے منع کرنے کا حکم اکثر صحابہ کرام اور تابعین کرام اور ان کے بعد ائمہ کرام سے بھی ثابت ہے، جیسا کہ اعلاء السنن میں ہے:
وہو قول اکثر أہل العلم من أصحاب النبی ﷺ والتابعین ومن بعدہم (إلی قولہ) قالوا لا تقراء الحائض ولا الجنب من القرآن شیأ إلا أطراف الآیۃ والحرف ونحو ذالک۔ (ج۱، ص۳۷۷)-
لہٰذا کسی معلمہ کا اپنی طالبات کو ان کے ماہواری کے ایام میں قرآن کریم کو چھونے، اس کی مستقل تلاوت کرنے اور خود بھی اس کے مطابق عمل کرنے کا طرزِ عمل بلاشبہ ناجائز، حرام اور سخت گناہ کی بات ہے اور اپنے آپ کو قہر الٰہی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
ان سب پر لازم ہے کہ اپنے ان مخصوص ایام میں قرآن کریم کو چھونے اور اس کی تلاوت کرنے سے احتراز کریں، البتہ بصورتِ تقطیع (حروف کاٹ کاٹ کر)پڑھنے کی گنجائش ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ کسی ایک آیت کو مستقل ایک سانس میں پڑھنے کے بجائے اس کے ہر ہر کلمے کو الگ الگ سانس میں پڑھے مثلاً جیسے: {الحمدﷲ رب العالمین} کو اس طرح پڑھے کہ: ’’الحمد‘‘ الگ سانس میں، ’’لِلّٰہ‘‘ الگ سانس میں اور ’’رب العالمین‘‘ الگ سانس میں پڑھے۔
اگر طالبات کو اتنے دن نہ پڑھنے سے منزل وغیرہ کے بھولنے کا اندیشہ ہو تو اس کیلئے یہ مثلاًترکیب اختیار کی جاسکتی ہے کہ اس کے قریب بیٹھنے والی دوسری طالبہ اس کی منزل وغیرہ اونچی آواز سے پڑھتی رہے اور یہ محض سنتی رہے خود زبان سے نہ پڑھے۔
جبکہ معلمہ کو بصورتِ تقطیع پڑھانے کی بھی گنجائش ہے اور یہ گنجائش بھی اس وجہ سے ہے کہ الگ الگ کلمہ پر قرآن کا اطلاق نہیں ہوتا۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0