السلام علیکم ، میرا سوال یہ ہے، کہ اگر کسی کے ہاں اپریشن کے (C /Section) کے ذریعہ بچے کی ولادت ہوئی ہو، اور اس کے دس دن بعد اس کوخون آنا بند ہوچکاہو، تو کیا اسے نماز پڑھناشروع کردینا چاہیے؟ یا پھر کچھ دن مزید انتظار کرنا چاہیے؟
ولادت خواہ فطری طریقہ سے ہو یا آپریشن کے ذریعہ سے ہو بہر صورت اس کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہوگا، اور نفاس کے خون کی کم سے کم مدت چوں کہ متعین نہیں، لہذا ایک دن بعد یا پیدائش کے دن بھی اگر مکمل طور پر خون بند ہوجائے تو یہ ایک دن ہی نفاس کا شمار ہوگا، اور مکمل خون بند ہوجانے کے بعد مذکورہ خاتون کے لیے غسل کرنے کے بعد نماز و دیگر عبادات کرنے کی اجازت ہوگی۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکور خاتون کو اگر دس کے بعد خون آنا بند ہوچکاہو، اور وہ مکمل طورپر پاک ہوچکی ہو، تو اسے مزید انتظارکرنے کی ضرورت نہیں بلکہ نماز ودیگر شرعی احکام شروع کرنے کی اجازت ہے۔
الھندیة: (37/1، ط: دار الفکر)
ولو ولدت من قبل سرتها بأن كان ببطنها جرح فانشقت وخرج الولد منها تكون صاحبة جرح سائل لا نفساء. هكذا في الظهيرية والتبيين إلا إذا خرج من الفرج دم عقيب خروج الولد من السرة فإنه حينئذ يكون نفاسا. هكذا في التبيين.اھ
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0