امامت و جماعت

امام صاحب کا آخری دس سورتوں کی تلاوت نہ کرنا

فتوی نمبر :
50456
| تاریخ :
2022-05-21
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام صاحب کا آخری دس سورتوں کی تلاوت نہ کرنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ ہماری محلے کی مسجد میں امام صاحب تقریبا 15 سال سے امامت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن جہری نمازوں میں امام صاحب نے کبھی بھی آخری دس سورتوں کی تلاوت نہیں کی۔ جب بھی امام صاحب کو کہتے ہیں کہ آخری دس سورتوں کی تلاوت نماز میں کیا کریں تاکہ پیچھے کھڑے مقتدیوں کی بھی آخری دس سورتیں اچھی طرح سے ذہن نشین ہوجائیں ۔ لیکن امام صاحب کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ میں لوگو ں کی آسانی کے لئے صرف 3 آیت کی تلاوت کرتا ہوں۔ مہربانی فرما کررہنمائی فرمائیں کہ ہم کیا کریں کیا ہماری نماز اس امام صاحب کے پیچھے درست تصور ہوگی یا نہیں۔جزاک للہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امام پر آخری سورتیں پڑھنا تاکہ لوگوں کو یہ سورتیں یاد ہوں واجب یا فرض نہیں، بلکہ خود مقتدیوں پر لازم ہے کہ نماز کے علاوہ وقت نکال کرقرآن پڑھنا سیکھ لیں، تاہم چونکہ مغرب کی نماز میں سورۃ زلزال سے لے کرآخر تک کی چھوٹی سورتیں پڑھنا مستحب عمل ہے، اس لئے امام موصوف کو وقتا فوقتا اس کا اہتمام کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في البحر: وفي رواية ثلاث آيات قصار أو آية طويلة، وهو قولهما ورجحه في الأسرار بأنه احتياط ؛ لأن قوله لم يلد} [الإخلاص: 3] {ثم نظر} [المدثر: 21] لا يتعارف قرآنا، وهو قرآن حقيقة فمن حيث الحقيقة حرمنا على الحائض والجنب ومن حيث العدم لم تجز الصلاة به حتى يأتي بما يكون قرآنا حقيقة وعرفا فالأمر المطلق لا ينصرف إلى ما لا يتعارف قرآنا والاحتياط أمر حسن في العبادات - اهـ (358/1)
وفي الدر المختار: (و) يسن ( في الحضر) للإمام و المنفرد، ذكره الحلبي، والناس عنه غافلون( طوال المفصل من الحجرات إلى آخر البروج في الفجر والظهر ، و منها إلى آخر - لم يكن -أوساطه في العصر والعشاء، و) باقيہ(قصاره في المغرب) أي في كل ركعة سورة مما ذكره الحلبي
وفى الدر: وفي رواية ثالثة عنه وهي قولهما ثلاث آيات قصار أو أية طويلة - اھ (537/1)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 50456کی تصدیق کریں
0     635
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات