بڑے بھائی کے انتقال پر چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کو نماز جنازہ اور تدفین میں شریک نہیں ہونے دیا، سالے، سالیوں اور بیٹیوں نے تدفین کی،جبکہ ولی موجود تھے،اور ولیوں کی طرف سے میت اور نماز جنازہ امانت ہے،ولی اپنے آبائی قبرستان میں تدفین کرنا چاہتے تھے،امام مسجد نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا،شریعت کی رو سے سب کے لیے کیا حکم ہے؟ جبکہ میت کو دفنائے چھ دن ہوچکےہیں۔
صورت مسئولہ میں شخص مذکور کے بھائی، بہنوں کو جنازہ اور تدفین وغیرہ میں شرکت سے روکنا تو درست نہیں تھا، جنہوں نے بھائی بہنوں کو تدفین اور جنازہ میں شرکت سے روکا ہے، وہ اس عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوئے ہیں، اُن پر لازم ہے کہ مرحوم کے بھائیوں اور بہنوں سے معافی مانگیں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار بھی کریں، البتہ تدفین کے بعد اب قبر کھول کر نعش کو کسی دوسرے جگہ منتقل کرنا شرعاً درست نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، اور اب اگر میت بوسیدہ ہو چکی ہو تو اولیاء کو مرحوم کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنا بھی درست نہیں۔
فی الدر المختار : (و لا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي اھ (2/ 238)-
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : و لا ينبش ليوجه إليها) أي لو دفن مستدبرا لها و أهالوا التراب لا ينبش لأن التوجه إلى القبلة سنة و النبش حرام اھ (2/ 236)-
و فی الفتاویٰ التاتارخانیة : إذا دفن قبل الصلاة صلی علیه ما لم یعلم أنه تفرق اجزاء و لا یخرج من القبر لأنه قد سلم إلی اللہ تعالیٰ اھ (۳/ ۷۹)-
و فی الدر المختار : (فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (و لم يتابعه) الولي (أعاد الولي) و لو على قبره (إلی قوله) فيصلي على قبره ما لم يتمزق (و إن دفن) و أهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح . و ظاهره أنه لو شك في تفسخه صلي عليه اھ (2/ 224)-