میں ایک چھوٹی سی مسجد کا امام ہوں اور حنفی ہو؟. سورہ فاتحہ اور کسی اور سورہ کے درمیان (یعنی ولا الضالین اور سری آمین کے بعد) اکثر وقفہ کرتا ہوں جو تین تسبیحات سے زیادہ ہوتا ہے مگر اتنا طویل وقفہ بھی نہیں کرتا کہ جس میں مقتدی مکمل سورہ فاتحہ پڑ سکے، سؤالات میرے یہ ہیں:
1۔ کیا ایسا کرنا مکروہ ہے؟
2۔ کیا ایسے کرنے سے سجدہ سہو لازم آئیگا کیونکہ "ضم سورت" ایک واجب ہے اور واجب کی تاخیر بقدر رکن سے سجدہ سہو لازم ہوگا؟
ایک غیر حنفی صاحب جو میرے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں وہ طنز کرتے ہیں مجھ پر کہ آپ کی حنفی فقہ کے مطابق آپ کے اس وقفہ سے سجدہ سہو آرہا ہے اور چونکہ آپ سجدہ سہو نہیں کر رہے تو نماز ہی فاسد ہوجاتی ہے اور اعادہ واجب. واضح رہے کہ میرا یہ وقفہ کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ مجھے سانس کے مسائل ہیں اور وقفہ سے سانس بہال ہوجاتا ہے تاکہ قراءت مکمل ہوسکے.
براہ کرم تفصیلی جواب دی جی گا مع حوالے کتب حنفیہ.
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر واقعۃً سائل کو سانس کی بیماری ہو اور اسی عذر کی بناء پر سورہ فاتحہ اور سورت کے درمیان معمولی مقدار میں وقفہ کرتا ہو تو ایسی صورت میں نماز درست ادا ہو جائےگی، سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا، تاہم سائل کو چاہیے کہ اپنے اس مرض کا جلد از جلد علاج کرائے، تاکہ مقتدیوں کو اعتراض کرنے کا موقع نہ ملے۔
ففی الفتاوى الهندية: ويكره السعال والتنحنح قصدا وإن كان مدفوعا إليه لا يكره. كذا في الزاهدي. (1/ 107)
وفی الدر المختار: (والتنحنح) بحرفين (بلا عذر) أما به بأن نشأ من طبعه فلا (أو) بلا (غرض صحيح) فلو لتحسين صوته أو ليهتدي إمامه أو للإعلام أنه في الصلاة فلا فساد على الصحيح اھ (1/ 619) واللہ أعلم بالصواب!