امامت و جماعت

مسجد کے قریب مدرسہ والوں کا مدرسہ میں ہی نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
47324
| تاریخ :
2021-09-13
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجد کے قریب مدرسہ والوں کا مدرسہ میں ہی نماز پڑھنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ہمارے یہاں ایک مدرسے کے قریب پچاس قدم پر مسجد ہے، جبکہ مدرسے والےاور مدرسے کا عملہ بالغ اور نابالغ بچے اور مدرسین سب اپنی جماعت مدرسے میں ادا کرتے ہیں۔ یہ اُن کا مستقل عمل ہے، مسجد میں جا کر نماز نہیں پڑھتے، مدرسے میں ہی جماعت کرتے ہیں۔ اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں نماز درست ہے، مسجد میں نہ جانے کی وجہ سے بس مسجد کا ثواب نہیں ملےگا۔ تو کیا اُن کا یہ عمل درست ہے؟ اور اُن کا یہ قول کہاں تک درست ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عاقل و بالغ مردوں کے لیے مسجد کی جماعت چھوڑنے کو مستقل معمول بنانا گناہ کی بات اور ثوابِ مسجد سے محرومی الگ سے مستقل نقصان ہے، لہٰذا مذکور اہلِ مدرسہ میں موجود بالغ افراد کو مسجد جانے میں اگر کوئی عذر مانع نہ ہو تو ان کو چاہیے مسجد جا کر جماعت سے نماز پڑھنے کا اہتمام کریں اگرچہ ان کے لیے نماز باجماعت مدرسہ میں پڑھنا بھی درست ہے، البتہ اگر نابالغ بچوں کو انتظامی طور پر یا مسجد میں نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالنے کی وجہ سے مدرسہ ہی میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا پابند بنایا جائے تو اس میں قباحت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (وأقلها اثنان) واحد مع الإمام ولو مميزا أو ملكا أو جنيا في مسجد أو غيره. (1/ 553)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله في مسجد أو غيره) قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية. اهـ. (1/ 554)
وفی الإحكام شرح أصول الأحكام: أن من لم يمكن في وسعه المجيء إلى الجماعة لمرض أو مطر أو خوف ونحو ذلك لا يكلف فوق طاقته فلا يلزمه حضور الجماعة وهذا مما لا نزاع فيه. (1/ 397)
وفی موسوعة الفقه الإسلامي: أقل الجماعة اثنان، وإذا صلى الرجل بزوجته فهم جماعة، لكن تكون المرأة خلفه. وكلما كثرت الجماعة كان أزكى لصلاته، وأحب إلى الله عز وجل. (2/ 516)
وفی البحر الرائق: لو حلف لا یصلی بجماعة وأم صبیا یعقل حنث فی یمینه (إلی قوله) حتی لو صلی فی بیته بزوجته أو جاریته أو ولده فقد أتی بفضیلة الجماعة اھ (۱/۳۴۵)
وفی حاشیة منحة الخالق: سیأتی خلافه عن الحلوانی من أنه لاینال الثواب ویکون بدعة ومکروها لیکن قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية وھو ظاهر مذهب الشافعی رحمه اللہ اھ (۱/۳۴۵) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47324کی تصدیق کریں
1     1819
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات