امامت و جماعت

امام صاحب پر نامردی کا الزام لگاکر اس کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
46960
| تاریخ :
2021-08-18
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام صاحب پر نامردی کا الزام لگاکر اس کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنے کا حکم

السلام علیکم! حضور ایک معاملے میں تحریری فتوی چاہیے
ایک امام مسجد 6 سال سے ایک مسجد میں امامت کروا رہے ہیں حافظ قران عالم دین داڑھی ایک مٹھی پوری شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں بظاہر کوئی فسق و فجور نہیں پایا جاتا
ایک شخص ان پر تہمت لگاتا ہے کہ امام صاحب نامرد ہیں لہذا ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی امام صاحب نے اس کو اپنا نکاح نامہ دکھایا بچوں کے بارے میں بتایا مگر وہ شخص باز نہیں آتا اذان کے وقت مسجد میں آتا ہے منع کرنے کے باوجود خود اذان دے کر اپنی نماز پڑھ کر چلا جاتا ہے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا
دیگر لوگوں کو بھی کہتا ہے امام نامرد ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی سب اپنی اپنی نمازیں دھرائیں اور اس امام کو نکال کر کوئی مرد امام لائیں
پوچھنا یہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہوگا اس کا اذان دینا، اپنی نماز پڑھنا، امام کا سرعام دل دکھانا وغیرہ اس پر شرعی حکم کیا لگے گا.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیان سے کام نہ لیا گیا ہو تو شخص مذکور کا یہ عمل انتہائی غلط اور بے ہودہ ہونے کے ساتھ سخت گناہ پر مبنی ہے، شخص مذکو رپر لازم ہے کہ اپنے اس غلط طرزِ عمل سے باز آکر توبہ واستغفار کرے اور امام موصوف سے بھی معافی مانگے، تاہم اگر شخصِ مذکور اپنے اس عمل سے باز نہ آئے تو علاقے کے معزز حضرات جرگہ کی صورت میں اس کو بلا کر تنبیہ کر کے اس کو اس عمل سے روک سکتے ہیں، اگر شخصِ مذکور جرگہ والوں کی بات بھی نہ مانے تو ایسے شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر کے مناسب سزا دلوائی جا سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا ﴾(الأحزاب: 58)
وفی صحيح البخاري: قال: أخبرني أبو إدريس عائذ الله بن عبد الله، أن عبادة بن الصامت رضي الله عنه وكان شهد بدرا وهو أحد النقباء ليلة العقبة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال، وحوله عصابة من أصحابه: «بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا، ولا تسرقوا، ولا تزنوا، ولا تقتلوا أولادكم، ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم، ولا تعصوا في معروف، فمن وفى منكم فأجره على الله، ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب في الدنيا فهو كفارة له، ومن أصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله فهو إلى الله، إن شاء عفا عنه وإن شاء عاقبه» فبايعناه على ذلك اھ (1/ 12)
وفی الفتاویٰ التاتارخانیة: إذا قال لغیره با خبیث، یا فاسق وفی الکافی وهو لیس بفاسق أو قال یا مخنث فعلیه التعزیراھ(۶/ ۴۰۸) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 46960کی تصدیق کریں
0     794
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات