السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتانِ کرام کہ ایک شخص مسمی مرزا انجینئر محمد علی جہلمی اپنے عقائد ونظریات کی روشنی میں اہلِ سنت والجماعت سے خارج ہے یا نہیں؟
مرزا جہلمی کے مختصر نظریات درجِ ذیل ہیں جو اس کی یوٹویب ویڈیوز اور پمفلٹ میں بیان ہیں۔ نبی کریمﷺ کے لیے معاذ اللہ چھوکرے کالفظ استعمال کیا ہے اور تنبیہ کرنے پر اپنا بے بنیاد دفاع بھی کیا ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کھلم کھلا تنقید کرتاہے خصوصاً سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بدترین الزامات عائد کرتاہے ان کو بدعتی، باغی، گالی باز اور بے شمار الزامات لگاتاہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روحانی طور پر پہلا خلیفہ کہتاہے ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ظالم کہتاہے، صحابہ کرام کی تکفیر کرنے والے کو مسلمان سمجھتاہے روافض کو مسلمان سمجھتاہے، بیشتر معاملات میں ان کی حمایت کرتاہے، محدثین پر احادیث چھپانے کا الزام لگاتاہے قادیانیوں کو صرف اس لیے کافر کہتاہے کہ وہ اُسے کافر سمجھتے ہیں قادیانیوں کو یہود ونصاریٰ سے افضل کہتاہے علمائے دیوبند کے المہند والمفند والے عقائد کو کفریہ کہتاہے، علماء کرام پر طعن وتشنیع، بہتان بازی اس کا معمول ہے لفظ اللہ کو معاذاللہ مہمل کہتاہے اس کے علاوہ بے شمار نظریات میں اہلِ سنت والجماعت کے منہج سے منحرف ہے، کیا ایسا مفسد شخص اہلِ سنت والجماعت سے خارج نہیں ہے؟
نوٹ: مرزا جہلمی کی گستاخیوں کے کلپ اس کے یوٹیوب چینلز پر ابھی بھی موجود ہیں اور ا س کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔
واضح ہوکہ مذکور شخص نہ تو عالم ہے، نہ کسی مکتبہ فکر سے اس کا تعلق ہے، نہ ہی اس کا باقاعدہ استاذ ہے جس سے اس نے علمِ دین سیکھا ہو بلکہ اس نے علیحدہ ایک مسلک بنایا ہواہے، اور بغیر استاذ کے عربی کتابوں کا اردو ترجمہ دیکھ کر نادان لوگوں کو مرجوح اقوال بتاتاہے، جس پر امّتِ مسلمہ کا عمل نہیں ہے، جبکہ اس شخص کا ایک زمانہ میں دیو بندی مسلک کے ساتھ تعلق تھا، پھر ا کو چھوڑ کر بریلوی مسلک اختیار کیا، پھر اس کو بھی چھوڑ دیا، اس کے بعد مسلکِ شیعہ کو بھی اختیار کیا، لیکن اس کو بھی چھوڑ کر ایک نیا مسلک بنالیا اور اس نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کی اور اہلِ سنت والجماعت کے بڑے بڑے جید علماء کو برا بھلا کہا اور ان احضرات پر تنقید کی اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد پر حملہ کیا، اور ان عقائد کو غلط کہا، اور قادیانیوں کی سپورٹ کی جس کی تفصیل خود اس کے بیانات میں موجود ہے، لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اس شخص سے دور رہیں، اس کی تقریروں کو نہ سنیں اور اس کی مجلس میں شرکت نہ کریں، تاہم یہ شخص مذکور بد فعلوں کی وجہ سے اگرچہ کافر نہیں، مگر بدعتی اور فاسق ضرور ہے، جس سے بچنا تمام مسلمانوں پر لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (ومبتدع) أی صاحب بدعة وهی اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوی شبهة اھ (۱/ ۵۶۰)
وفی رد المحتار: فی أهل الأهوا إذا ظهرت بدعتھم وفی نور العین عن التّمهید أهل الأهواء إذا ظهرت بدعتهم بحیث توجب الکفر فإنّه یباح قتلهم جمیعًا إذا لم یرجعوا ولم یتوبوا وإذا تابو وأسلموا تقبل توبتهم جمیعا إلّا الابایة والغالیة والشّیعة من الرّواضف والقرامتة والزنادقة من الفلاسفة لا تقبل توبهم بحال من الأحوال ویقتل بعد التّوبة وقبلها لانهم لم یعتقدواا بالصّانع تعالی حتی یتوبوا ویرجعوا إلیه وقال بعضهم ان تاب قبل الاخذ والاظهار تقبل توبته وإلّا فالا وهو قیاس قول أبی حنفیة وهو حسن جدًا فأمّا فی بدعة لا توجب الکفر فانّه یعب التعزیر بای وجه یمکن أن یمنع من ذلك فان لم یمکن بلا حبس وضرب یجوز حبسه وضربه وکذا لو لم یمکن المنع بلا سیف ان کان رئیسکهم ومقتداهم جاز قتله سیاسة وامتناعا والمبتعد لوله دلالة ودعوة للنّاس الی بدعته ویتوهّم منه ان ینشر البدعة وإن لم یحکم بکفره جاز للسّلطان قتله سیاسیة وزجرًا لانّ فساده أعلی واعمّ حیث یؤثر فی الدین والبدعة لو کانت کفرًا یباح قتل اصحابها عامًا ولو لم تکن کفرًا یقتل معلمهم ورئیسهم زجرًا وامتناعًا. اھ (۴/ ۲۴۳)
وفیه ایضًا: اتّفق الائمة علی تضلیل اهل البدع اجمع وتخطئتهم وسبّ احد من الصحابة وبغضه لا یکون کفرًا لیکن یضلّل الخ وذکر فی فتح القدیر ان الخوارج الذین یستحلّون دماء المسلمین وأموالهم ویکفّرون الصحابة حکمهم عند جمهور الفقهاء وأهل الحدیث حکم البغاة وذهب بعض أهل الحدیث إلی أنهم مرتدّون قال ابن المنذر: ولا اعلم احدا وافق اهل الحدیث علی تکفیرهم وهذا یقتضی نقل اجماع الفقهاء وذکر فی المحیط أنّ بعض الفقهاء لا یکفّر أحدًا من أهل البدع بعضهم یکفّرون البعض وهو من خالف ببدعته دلیلا قطعیا ونسبه الی اکثر أهل السّنّة والنقل الاوّل أثبت اھ (۴/ ۲۳۷)
وفی الدر المختار: ثم الخارجون عن طاعة الإمام ثلاثة قطّاع طریق وعلم حکمه وبغاةٌ ویجیء حکمھم خوارج وهم قوم لهم منعة خرجوا علیه بتأویل یرون أنه علی باطل کفر أو معصیة توجب قتاله بتأویلهم ویستحلّون دماءنا واموالنا ویسبون نساءنا ویکفّرون اصحاب نبیّنا ﷺ وحکمهم حکم البغاة بإجماع الفقهاء کما حققه فی الفتح وإنما لم نکفّرهم لکونه عن تاویل وإن کان باطلًا. اھ (۴/ ۲۶۲)