السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!میں حضرت سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں،حنفی مسلک میں نمازِ جنازہ ختم کرنے کا طریقہ کیا ہے؟یہیں ہمارے ملک میں نمازِ جنازہ میں دیکھا جا سکتا ہےکچھ لوگ سلام پھیرنے کے بعد دونوں ہاتھ نیچے کرتے ہیں ، کچھ سلام پھیرنے کے بعد دائیں ہاتھ کو لوٹتے ہیں ، کچھ سلام پھیرنے کے بعد بائیں ہاتھ کو لوٹتے ہیں اور کچھ سلام پھیرنے کے بعد دونوں ہاتھ نیچے کرتے ہیں،جو درست طریقہ ہے۔
سائل کا سوال مکمل طور پر واضح نہیں کہ سائل نمازِ جنازہ مکمل ہونے کے بعد کس چیز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہے، تاہم اگر سائل کا سوال نمازِ جنازہ سے فارغ ہو کر کس جہت کی طرف چلنے کے متعلق ہو، تو واضح ہو نماز جنازہ کے بعد کسی مخصوص جہت کی طرف نکلنے کے متعلق شریعت میں کوئی وضاحت مذکور نہیں ، لہذا نمازِ جنازہ میں چوتھی تکبیر کہنے اور دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد دونوں طرف میں سے کسی بھی جہت کی طرف مڑنے میں اختیار حاصل ہے، تاہم اگر سائل کی مراد کچھ اور ہو ، تو واضح الفاظ میں اس کی تفصیل لکھ کر ارسال کرے ، تاکہ اسی کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے۔
كما فى خلاصة الفتاوى : و لا يعقد بعد التكبير لانه لا يبقى ذكر مسنون حتى يعقد ، فالصحيح انه يحل اليدين ثم يسلم تسليمتين هكذا في الذخيرة اھ (1/225)-
و فى المبسوط للسرخسي: و يسلم تسليمتين بعد الرابعة لأنه جاء أوان التحلل و ذلك بالسلام و في ظاهر المذهب ليس بعد التكبيرة الرابعة دعاء سوى السلام اھ (2/ 64)-
و فى الاختيار لتعليل المختار : (و يسلم بعد الرابعة) لأنه لم يبق عليه شيء فيسلم عن يمينه و عن شماله كما في الصلاة هكذا آخر صلاة صلاها - صلى الله عليه و سلم - و هو فعل السلف و الخلف إلى زماننا . قال أبو حنيفة : إن دعوت ببعض ما جاءت به السنة فحسن ، و إن دعوت بما يحضرك فحسن . اھ(1/ 95)-
و في تبيين الحقائق : و لم يذكر المصنف بعد الرابعة سوى التسليمتين ، و هو ظاهر المذهب و روي عن بعضهم أنه يقول بعد الرابعة قبل التسليم {ربنا آتنا في الدنيا حسنة و في الآخرة حسنة و قنا عذاب النار} [البقرة: 201] و ينوي بالتسليمتين كما وصفناه في صفة الصلاة و ينوي الميت كما ينوي الإمام اھ (1/ 241)-