اگر کبھی کسی سے کفریہ کلمات زبان سے نکل جائیں تو ایمان میں واپس آنے کے لئے وہ کیا کرے ؟ذرا تفصیل سے بتا دیں ۔جزاک اللّه
جو شخص عاقل بالغ ہو اور وہ کلماتِ کفر اپنی زبان سے قصداً و ارادۃً ادا کرے تو وہ اس سے بلاشبہ کافر ہو جائے گا،اس پر لازم ہے کہ وہ توبہ کر کے دوبارہ کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرے اور آئندہ اس طرح کے کلمات کفر کہنے سے مکمل اجتناب کرے۔
کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : (وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لا يعقل وسكران ومكره عليها، وأما البلوغ والذكورة فليسا بشرط بدائع. ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ. (4/ 224) ۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1