جناب مفتی صاحب: اسلامی بینکنگ کے متعلق معلومات لینا چاہتا ہوں , کیا یہ حقیقۃً اسلامی بینکنگ ہے؟ کیا یہ بینک سود لیتا ہے یا نہیں؟ اور میزان بینک کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں، میں نے سنا ہے کہ اس بینک کے سر پرست ( مشیر ) مولانا تقی عثمانی صاحب ہیں جو کو رنگی دار العلوم کراچی سے تعلق رکھتے ہیں ۔برائے مہربانی تفصیلات بھیجئے , جتنا جلد ہو سکے , میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔
المیزان اور بینک الاسلامی وغیرہ بینکوں کو بعض علماء کی طرف سے جو کاروباری فارمولا بتایا جاتا ہے، وہ اگر چہ دوسرے مروّج بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعتِ مطہرہ کے بھی قریب تر ہے، مگر اس نظام کو چلانے والے افراد اصولِ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر عموماً ان معاملات اور فارمولوں کو بجالانے میں غلطی کر جاتے ہیں جو دراصل ضابطے کی خرابی اور غلطی نہیں، بلکہ متعلقہ فرد کی نا سمجھی اور غلطی ہوتی ہے جس کی بناء پر انجام دیا جانے والا معاملہ بھی شرعاً نا جائز ہو جاتا ہے، نیز ان اداروں کے غیر سرکاری اور پرائیویٹ ہونے کی وجہ سے ان کے اصول اور ضوابط کے بدلنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے ،جس کی بناء پر اکثر علماءِ کرام ان بینکوں کے ذریعہ کی جانیوالی سرمایہ کاری کو بھی شرعاً نا جائز اور حرام بتلاتے ہیں، حالانکہ بنیادی فارمولے کے درستگی کی صورت میں اگر اصولِ شرعیہ سے واقفیت رکھنے والے کسی معتمد شرعی ایڈوائزر کی نگرانی میں یہ معاملہ انجام دیا جائے یا اس پورے معاملہ اور معاہدہ کی وضاحت لکھ کر کسی بھی معتمد دار الافتاء سے اس کی حقیقت درست معلوم ہونے کی صورت میں اس بینک کے ساتھ معاملہ کر لیا جائے تو یہ شرعاً بھی جائز اور درست کہلائے گا اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!