دس سال پرانی قبر منہدم ہو گئی، اس میں میت صحیح سلامت تھی، چونکہ قبر بالکل سلائیڈ کی وجہ سے منہدم ہو گئی، لوگوں نے میت کو دوسری جگہ قبر بنا کر دفن کیا اور نمازِ جنازہ بھی دوبارہ پڑھی، سوال یہ ہے کہ دس سال قبل دفن کی گئی میت پر دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے؟
دس سال پرانی قبر منہدم ہو جانے کے بعد برآمد ہونے والی میت پر دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، لہذا لوگوں کا یہ عمل درست نہ تھا، لیکن اگر انہوں نے غلطی اور نا سمجھی سے ایسا کیا ہو تو امید ہے کہ وہ گنہگار نہ ہونگے۔
كما في الفتاوى الهندية : و لو صلى عليه الولي و للميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا ، كذا في الجوهرة النيرة ، فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء ، كذا في الهداية . (1/ 164)-
و فيها ايضاً : و إن صلى عليه الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده و لو أراد السلطان أن يصلي عليه فله ذلك ؛ لأنه مقدم عليه اھ (1/ 164)-
و فى حاشية ابن عابدين : و إن صلى الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده اهـ و نحوه في الكنز و غيره اھ (2/ 223)-