امامت و جماعت

بدعات ورسومات کےمرتکب شخص کی اقتداء میں نماز کا حکم

فتوی نمبر :
4463
| تاریخ :
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بدعات ورسومات کےمرتکب شخص کی اقتداء میں نماز کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسے بریلوی امام کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے
(۱)۔ جو نذر ونیاز کرتاہے، صلوٰۃ وسلام پڑھتاہے اپنے پیٹ کے چکر میں , لیکن عقیدہ اس کا صحیح ہے؟
(۲)۔ جو مشرک ہے اللہ کے نبیﷺ کو حاضر وناظر مانتاہے , عالم الغیب مانتاہے , نور کہتاہے , بدعت کےساتھ شرک میں مبتلا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بریلوی حضرات عموماً بدعات ورسومات کے مرتکب ہوتے ہیں اس لئے کسی متبع ِشریعت اور متقی پرہیزگار شخص کے ہوتے ہوئے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے اس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم اگر کوئی بریلوی امام سوال میں مذکور پہلی قسم سے متعلق ہو اور اپنے اختیار سے اس کی تبدیلی بھی ممکن نہ ہو تو اکیلے نماز پڑھنے کے بجائے اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لینا تاکہ جماعت کا ثواب مل جائے , اس کی اجازت ہے اور دوسری قسم کا امام چونکہ مشرکانہ عقائد کا حامل ہے اس لئے اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا قطعاً جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر: (ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) حتى الخوارج الذين يستحلون دماءنا وأموالنا وسب الرسول، وينكرون صفاته تعالى وجواز رؤيته لكونه عن تأويل وشبهة بدليل قبول شهادتهم، إلا الخطابية ومنا من كفرهم(.۱/ ۵۹۹)-
فی المحیط: بان لا تکون بدعته تکفره فان کانت تکفره فالصلوة خلفه لا تجوز. (۱/ ۳۴۹)-
وفی بدائع الصنائع: وذکر فی المنتقٰی روایة عن ابی حنیفة انه کان لا یری الصلاة خلف المبتدع والصحیح انه ان کان هوی یکره لا تجوز وان کان لا یکفره تجوز مع الکراهة. (۱/ ۱۵۷) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زعیم ظریف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4463کی تصدیق کریں
0     603
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات