کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بیٹی جس کا نام ”خلیدہ“ ہے ہم نے اپنی بیٹی کی شادی کچھ ماہ قبل کر وائی تھی مگر اب وہ ہمارے گھر میں رہ رہی ہے کچھ ذاتی مسئلے مسائل کی وجہ سے، مگر جب میں نے اپنی بیٹی کو کہا کہ آپ نماز پڑھا کریں اور اپنی چھوٹی بہنوں پر شفقت کیا کریں اور اپنی ماں کی خدمت کریں تاکہ آپ کیلئے اللہ سبحانہ و تعالی راستہ کھولے اور آپ کا شوہر آپ کو اپنے پاس لے جائے مگر میری بیٹی نے فوراً جواب میں کہا میں نہ نماز پڑھوں گی اور نہ بچوں پر شفقت کروں گی اور نہ ہی میں اپنی ماں کی خدمت کروں گی بلکہ میں تو خود کشی کر کے خود کو ماروں گی، اب پوچھنا یہ تھا کہ اس طرح کے کلمات کہنے سے کیا نکاح ٹوٹ گیا ہے اور کیا یہ اسلام سے خارج ہو گئی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر شرعاً نکاح کرنے کا دوبارہ اسی شوہر سے کیا طریقۂ کار ہو گا؟ اگر نکاح اسی شوہر سے نہ کرے تو کیا وہ دوسری نئی شادی مطلب نئے شخص سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں ؟
سائل کی بیٹی کے مذکور الفاظ ” میں نہ نماز نہیں پڑھو گی ... الخ “ اگر چہ نامناسب ہیں جس سے آئندہ اجتناب کرنا چاہیئے ، مگر ان الفاظ کی وجہ سے سائل کی بیٹی کے ایمان اور نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑا، لہذا اس کا نکاح اپنی شوہر کے ساتھ بدستور قائم ہے ، اور دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
كما في الفتاویٰ الهندية : وقول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه: أحدها: لا أصلي لأني صليت، والثاني: لا أصلي بأمرك، فقد أمرني بها من هو خير منك، والثالث: لا أصلي فسقا مجانة، فهذه الثلاثة ليست بكفر. والرابع: لا أصلي إذ ليس يجب علي الصلاة، ولم أؤمر بها يكفر، ولو أطلق وقال: لا أصلي لا يكفر لاحتمال هذه الوجوه۔اھ (2/268)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1