اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان پر انوسٹمنٹ کرنا اور اس کی نوکری کرنا کیساہے ؟ وہ لوگ کہتے ہے کہ اس کے بارے میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہم نے فتوی دیا ہے جو کہ میں نے ابھی تک نہیں دیکھا؟
اسٹیٹ لائف انشورنس کا طریقہ کار سودی بینکوں کی طرح سود اور ناجائز معاملات پر مبنی ہوتا ہے ، اس لیے لائف انشورنس کمپنی سے پالیسی لینا جائز نہیں،
جبکہ لائف انشورنس کمپنی کی جس ملازمت کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے ہو ، اس ملازمت کو اختیار کرنا اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ جس ملازمت کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے نہ ہو (جیسا کہ چوکیدار، ڈرائیور وغیرہ) تو ایسی ملازمت کو اختیار کرنے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
و في التنزيل العزيز : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ } [البقرة: 278، 279]
كما في تفسير روح المعاني: قوله تعالى: وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ فيعم النهي كل ما هو من مقولة الظلم والمعاصي، ويندرج فيه النهي عن التعاون على الاعتداء والانتقام. (3/ 230)
و في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0