مغرب کی نماز جب باجماعت پڑھتا ہو اور آدمی دو رکعت سے رہ جائے اب جب امام سلام پھرے تو آدمی وہ دو رکعت مسلسل اٹھ کر پھر اتحیات میں بیٹھ کر سلام پھرے یا ایک رکعت کے لئے اٹھ کر اتحیات پرھ لے پھر دوسرا رکعت کے لئے پھر اٹھے گے
صحیح طریقہ کیا ہے وضاحت فرمائیں؟؟
اگر کوئی شخص مغرب کی دو رکعتوں میں مسبوق ہو جائے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت پڑھ کر قعدہ کرے اور پھر اُٹھ کر مزید ایک رکعت پڑھے، یہی طریقہ درست ہے۔
ففی مصنف ابن أبي شيبة: عن ابن المسيب، قال: «هل تعلمون صلاة يقعد فيها كلها؟» فقال: «رجل أدرك من المغرب ركعة فيقعد فيهن جميعا»اھ(2/ 233)
وفی الدر المختار: (والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) (إلی قوله) فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما اھ (1/ 596)
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) أنه يقضي أول صلاته في حق القراءة وآخرها في حق التشهد حتى لو أدرك ركعة من المغرب قضى ركعتين وفصل بقعدة فيكون بثلاث قعدات وقرأ في كل فاتحة وسورة ولو ترك القراءة في إحداهما تفسد. (1/ 91) واللہ أعلم بالصواب!