کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو جنازے حاضر تھے، امام نے ایک ہی سلام سے دونوں کی نیت کر لی تھی، جب کہ تمام مقتدیوں نے صرف ایک ہی کی نیت کرلی، اب پوچھنا یہ ہے کہ مقتدیوں کی طرف سے بھی دونوں جنازے ادا ہو گئے ہیں یا نہیں؟ نیز دوبارہ اعادہ کی ضرورت ہے یا نہیں ؟
اگر امام نے دونوں میتوں کی نیت سے ایک ہی بار نمازِ جنازہ پڑھادی ہو ، تو دونوں میتوں کی نماز جنازہ ادا ہو گئی ہے، اگرچہ مقتدیوں نے ایک ہی میت کی نیت کی ہو ، لہذا دوبارہ جنازہ کی نماز پڑھانے کی ضرورت نہیں۔
و فى الفتاوى الهندية : و ينبغي للمقتدي أن لا يعين الإمام عند كثرة القوم و كذلك في صلاة الجنازة ينبغي أن لا يعين الميت . كذا في الظهيرية . (1/ 67)-