السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایصالِ ثواب کے لیے کلمہ ختم یا بعض قرآن پڑھواکر دعا کرانا پھر کھانا کھلانا اور پیسہ دینا اور لینا شرعاً کیسا ہے؟ ایسا کرنے سے کیا میت کو ثواب ملےگا؟ براہِ مہربانی مدلل جواب ارسال فرمائیں،ممنون ومشکور ہونگے۔
ایصالِ ثواب کے لیے کلمہ کا ختم یا بعض قرآن مجید یا مکمل قرآن مجید پڑھواکر دعا کرانا بلاشبہ جائز ہے،مگر اس کے لیے چند حفاظِ کرام کو بلاکر قرآن مجید کا کچھ حصہ پڑھواکر ان کو کھانا کھلانا یا پڑھنے والوں کو اجرت کے طور پر کچھ دینا،اگرچہ اس کی صراحت نہ ہو ،نیز اپنی برادری کے تمام مستحق وغیر مستحق لوگوں کو دعوت کرنا اور تمام رشتہ داروں کے اس دعوت میں جمع ہونے کو لازم سمجھنا اور نہ آنے والوں کوملامت کرنا وغیرہ چیزیں محض رسوم ورواج وبدعت ہیں،تاہم اس سے بچتے ہوئے اگر قرآن مجید کا مکمل یا بعض حصہ پڑھ کر مرحومین کے لیے دعا کی جائے یا کلمہ کا ختم کرایا جائے تو یہ سب جائز اور درست ہے اور اس سے مرحومین کو ثواب بھی پہنچتا ہے۔
کمافی الهداية في شرح بداية المبتدي: والأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليه عندنا. وعند الشافعي رحمه الله يصح في كل ما لا يتعين على الأجير؛ لأنه استئجار على عمل معلوم غير متعين عليه فيجوز. ولنا قوله عليه الصلاة والسلام: "اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به"(3/ 238)۔
وفی رد المحتار: والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. (2/ 240)۔