سوا لاکھ کا ختم کروانا صحیح عمل ہے یا نہیں ؟ اور کیا قرآن پاک کے علاوہ مرحوم کو سورۃ یٰس اور سورۃ ملک پڑھ کر بھی بخش سکتے ہیں یا نہیں ؟
سوالاکھ کا ختم یا اسی طرح کے دوسرے ختم وغیرہ کروانے میں شرعاًکوئی حرج نہیں ،جبکہ مرحوم کو سورۃیٰس اور سورۃملک پڑھ کر بھی بخش سکتے ہیں ۔
فی الدر المختار : ويقرأ يس، وفي الحديث «من قرأ الإخلاص أحد عشر
مرة ثم وهب أجرها للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات- (2 / 242)
و فی رد المحتار: وفي شرح اللباب ويقرأ من القرآن ما تيسر له من الفاتحة وأول البقرة إلى المفلحون وآية الكرسي - وآمن الرسول - وسورة يس وتبارك الملك وسورة التكاثر والإخلاص اثني عشر مرة أو إحدى عشر أو سبعا أو ثلاثا، ثم يقول: اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلى فلان أو إليهم. اهـ (ج2ص243)۔ واللہ أعلم بالصواب!