کیا فرماتے مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قبرستان میں جا کر ، ایصالِ ثواب کے لیے سورت پڑھنا جائز ہے؟ اگر ہے تو کونسی ہے ؟ مجھے علم ہے کہ لوگ قبرستان جا کر ایک دفعہ سورۂ فاتحہ اور تین بار سورۂ اخلاص پڑھتے ہیں ، کیا یہ مسنون طریقہ ہے؟
قبرستان جاکر کوئی بھی سورت پڑھ کر ، اس کا ایصالِ ثواب کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ، اور اس میں کسی سورت کی تخصیص نہیں ، بلکہ جو سورت چاہے پڑھ سکتا ہے ، اگر چہ بعض سورتیں مثلاً فاتحہ ، اخلاص ، زلزال وغیرہ پڑھنے کو فقہاء نے مستحسن و مستحب قرار دیا ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين : و في شرح اللباب و يقرأ من القرآن ما تيسر له من الفاتحة و أول البقرة إلى المفلحون و آية الكرسي و آمن الرسول و سورة يس و تبارك الملك و سورة التكاثر و الإخلاص اثني عشر مرة أو إحدى عشر أو سبعا أو ثلاثا ، ثم يقول : اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلى فلان أو إليهم . اھ(2/ 243)۔
و فی الفتاویٰ الھندیة : ثم یقرأ سورۃ الفاتحة و آیة الکرسی ثم یقرأ سورۃ إذا زلزلت و الھٰتکم التکاثر اھ( ۲/ ۳۵۰)۔