کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
۱۔ میت کو دفن کرنے کے بعد ایک آدمی سر کی طرف اور دوسرا آدمی پاؤں کی طرف کھڑے ہو کر ایک آدمی سورۂ فاتحہ مع رکوعِ اوّلِ سورۂ بقرہ بلند آواز سے پڑھتا ہے اور دوسرا آدمی سورۂ بقرہ کا آخری رکوع پڑھتا ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
۲۔ ہمارے علاقے میں ہر گھر میں قرآن کریم موجود ہے جو کہ مسلمان کی علامت ہے ان میں سے کچھ لوگ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ ان پڑھ ،وہ یہ کرتے ہیں کہ قرآن کریم کو اُٹھاتے ہیں اور بوسہ دیتے ہیں اور بغیر تلاوت کے اس کو رکھ دیتے ہیں، اس کے بارے میں وضاحت مطلوب ہے۔
دفنِ میت کے بعد اس کے سرہانے کھڑے ہوکر سورۂ فاتحہ تو نہیں، البتہ سورۂ بقرہ کا اوّل تامفلحون اور پاؤں کی جانب سورۂ بقرہ کا آخری رکوع پڑھنا مستحب اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔
جبکہ تقبیلِ قرآن بلا شبہ درست اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے، مگر صرف تقبیل پراکتفاء کے بجائے کسی عالم یا قاری صاحب سے سیکھ کر قرآن کریم کی تلاوت اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کو بھی اپنا شیوہ بنانا چاہیۓ۔
في الدر المختار: وجلوس ساعة بعددفنه لدعاء و قراءة بقدر ما ینحر الجزور ويفرق لحمه اھ. (2/ 237)۔
وفى حاشية ابن عابدين: وكان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها. وروي أن عمرو بن العاص قال وهو في سياق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار، فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا، ثم أقيموا حول قبري قدر ما ينحر جزور، ويقسم لحمها حتى أستأنس بكم وأنظر ماذا أراجع رسل ربي اھ (2/ 237)۔
وفي الدر المختار: تقبيل المصحف قیل بدعة لكن روي عن عمر - رضي الله عنه - أنه كان يأخذ المصحف كل غداة ويقبله ويقول: عهد ربي ومنشور ربي عز وجل وكان عثمان رضي الله عنه يقبل المصحف ويمسحه على وجهه اھ (6/ 384)۔