کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کے پیچھے پہلے دن، دوسرے دن اور تیسرے دن خیرات کرنا کیسا ہے آیا جائز ہے یا حرام ہے؟
میت کو ایصالِ ثواب کی خاطر انفرادی طور پر نماز ، روزہ ، صدقہ وخیرات اور تلاوت وغیرہ اعمالِ خیر انجام دے کر ان کاثواب بخشنا بلاشبہ جائز اور باعثِ خیر بھی ہے۔
البتہ آج کل کے مروّجہ طریقے کے مطابق میت کے گھر والوں کا اجتماعی طور پر اور دنوں کی تعیین و تخصیص کے ساتھ کھانے وغیرہ پکا کر ان پر ختم وغیرہ پڑھنا، ان امور کو خیرات کا نام دے کر انجام دینا اور اسی کو ہی ایصالِ ثواب کا طریقہ سمجھنا اور جو ایسا نہ کرے، اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھنا اور مختلف القاب سے نوازنا ایسے امور ہیں، جن کی وجہ سے ایک جائز ،بلکہ مستحب امر بھی بدعت بن جاتا ہے جو کہ مروّج ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
في مرقاة المفاتيح: وعن عاصم بن كليب، عن أبيه، عن رجل من الأنصار، قال: «خرجنا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في جنازة، فرأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وهو على القبر يوصي الحافر يقول: أوسع من قبل رجليه، أوسع من قبل رأسه ، فلما رجع استقبله داعي امرأته، فأجاب ونحن معه، فجيء بالطعام، فوضع يده، ثم وضع القوم، فأكلوا الخ
هذا الحديث بظاهره يرد على ما قرره أصحاب مذهبنا من أنه يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول أو الثالث، أو بعد الأسبوع كما في البزازية، وذكر في الخلاصة: أنه لا يباح اتخاذ الضيافة عند ثلاثة أيام، وقال الزيلعي: ولا بأس بالجلوس للمصيبة إلى ثلاث من غير ارتكاب محظور من فرش البسط والأطعمة من أهل الميت. وقال ابن الهمام: يكره اتخاذ الضيافة من أهل الميت، والكل عللوه بأنه شرع في السرور، لا في الشرور. قال: وهي بدعة مستقبحة. (إلی قوله) فينبغي أن يقيد كلامهم بنوع خاص من اجتماع يوجب استحياء أهل بيت الميت، فيطعمونهم كرها، أو يحمل على كون بعض الورثة صغيرا أو غائبا، أو لم يعرف رضاه، أو لم يكن الطعام من عند أحد معين من مال نفسه لا من مال الميت قبل قسمته ونحو ذلك. وعليه محمل قول قاضي خان: يكره اتخاذ الضيافة في أيام المصيبة ; لأنها أيام تأسف، فلا يليق بها ما يكون للسرور، وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اھ (9/ 3832)۔