میت کے دوسرے دن فاتحہ ہوتی ہے، اُس میں نمازِ فجر حافظ صاحب قرآن تلاوت کے بعد مرحوم کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں اور اس میں میٹی چیز ہوتی ہے، جیسے کہ بنانا ایپل یا جو بھی دوسری چیز ہو، یہ سب کھانا کیسا ہے؟ مرحوم کے دوسرے دن یہ سب کرنا آپ کی نظر میں کیسا ہے؟ کیاایصالِ ثواب کی ہوئی چیز گھر لے جانے سے نحوست آتی ہے؟
میت کیلیے صدقہ وغیرہ کوئی بھی بدنی یا مالی عبادت انجام دیکر اس کا ثواب بخشنا اور ایسے صدقہ کی ہوئی چیز کو گھر لے جانا ہر دور امور شرعاً بھی جائز ہیں، مگر شریعتِ مطہرہ نے میت کیلیے ایصالِ ثواب کرنے کا کوئی خاص دن وقت یا خاص قسم کا کھانا متعین نہیں فرمایا، اس لیے اپنی طرف سے دوسرے دن فجر اور مخصوص اشیاء کے صدقہ دینے کی پابندی کرنا اور دوسروں سے اس کا اہتمام کروانا بدعت ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔
وفی البزازية علی هامش الهندية: ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاوّل والثالث وبعد الأسبوع والأعیاد ونقل الطعام إلی القبرہ المواسم واتخاذ الدعوۃ لقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء۔ اھـ (ج۴، ص۸۱)
وفی الهداية: الأصل فی هذا الباب أن الإنسان له أن یجعل ثواب عمله لغیرہ صلاۃ أو صوما أو صدقة أو غیرها عند اهل السنة والجماعة۔ اھـ (ج۱، ص۲۹۶) واللہ اعلم بالصواب!