دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا کسی غیر مسلم بد مذہب مشرک کو ایصالِ ثواب کیا جاسکتاہے؟ اسی طرح کیا کسی غیر مسلم بد مذہب مشرک کا کیا ہوا ایصالِ ثواب کسی مؤمن کو کوئی نفع دے سکتاہے؟ اور اسی طرح میں اس ایصال وثواب کرنے والے کیلیے کیا حکمِ شرع ہوگا؟
واضح ہوکہ کسی مسلمان کیلیے جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم کیلیے ایصالِ ثواب کرے، کیونکہ ثواب ہونے کیلیے خود میت کا اس ثواب کا اہل ہونا ضروری ہے اور یہ میت کے مسلمان ہونے پر موقوف ہے، اسی طرح اعمالِ خیر کا ثواب حاصل کرنے کیلیے بھی اسلام شرط ہے، جب غیر مسلم ہونے کی بناء پر خود اُسے ثواب نہ ملا تو وہ دوسرے کسی کو کیا دے گا، اس لیے مذکور دونوں امور سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى ۔ الآية (التوبة:۱۱۳)۔
وفي الدر المختار للعلامة الحصکفي: والحق حرمة الدعاء بالمغفرة للکافر اھ (۱/۵۲۲)۔
وفي الفتاوی الشامية: تحت (قوله لنفسه وأبويه وأستاذه المؤمنين) احترز به عما إذا كانوا كفارا فإنه لا يجوز الدعاء لهم بالمغفرة اھ (۱/۵۲۳) واللہ أعلم بالصواب