کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں ہمارے علاقہ میں کسی کے فوت ہو نے کے بعد میت کے ایصالِ ثواب کیلۓ علاقے والوں کو کھانا کھلایاجاتا ہے اور خیرات وغیرہ کی جاتی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ میت کے ایصالِ ثواب کیلۓ علاقہ میں کھانا کھلانا زیادہ بہتر اور ثواب ہے؟یا کسی مسجد ومدرسہ کی تعمیر میں ان پیسوں کو خرچ کیا جائے؟زیادہ بہتر اور مناسب صورت بتادیں، مہربانی ہوگی، جبکہ علاقہ والے صرف خیرات ہی کر تے ہیں ۔
میت کے ایصال ثواب کیلۓ علاقے کے لوگوں کو ایک وقت کا کھانا کھلانے کے بجائے مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں وہ پیسہ لگانا زیادہ بہتر اور صدقہ جاریہ ہے، کیونکہ جب تک مدرسہ و مسجد قائم رہیں گے، ثواب ملتا رہے گا۔
في السنن الصغرى للبيهقي: عن العلاء بن عبد الرحمن ، عن أبيه ، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ' إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاثة أشياء : من صدقة جارية، أو علم ينتفع به ، أو ولد صالح يدعو له اھ(6/ 62)۔
وفي سنن أبى داود: أخبرنا عمرو بن دينار عن عكرمة عن ابن عباس أن رجلا قال يا رسول الله إن أمى توفيت أفينفعها إن تصدقت عنها فقال « نعم ». قال فإن لى مخرفا وإنى أشهدك أنى قد تصدقت به عنها اھ(3/ 78)۔