کسی ایسے شخص کو ایصال ثواب کرنا کیسا ہے جو خود کشی کر کے فوت ہوا ہو۔ اور اگر زندگی میں کبھی اس کی دل آزاری و غیر کی ہو تو اب اس کی وفات کے بعد اس کا ازالہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
خود کشی کر لینے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لئے بحیثیت مسلمان اس کے لیے ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے اور سائل نے زندگی میں اسے جو تکلیف دی یا اس کی دل آزادی کی ہو تو اس کے ازالہ کی صورت یہ بھی ہے کہ اس کے حق میں دعاءِ مغفرت کرتا ر ہے۔
ففي صحيح مسلم: عن جابر أن الطفيل بن عمرو الدوسي، أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، هل لك في حصن حصين ومنعة؟ (إلی قوله) وهاجر معه رجل من قومه، فاجتووا المدينة، فمرض، فجزع، فأخذ مشاقص له، فقطع بها براجمه، فشخبت يداه حتى مات، (إلی قوله) فقال: ما لي أراك مغطيا يديك؟ قال: قيل لي: لن نصلح منك ما أفسدت، فقصها الطفيل على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اللهم وليديه فاغفر» اھ (1/ 108)