کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ:
(۱) قبروں پر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنا کیسا ہے؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(۲) عورتوں کا قبروں کی زیارت کیلئے جانا کیسا ہے؟ اور قبروں پر قرآن لے جانا، پھر وہاں تلاوت کرنا کیسا ہے؟ اور ایصالِ ثواب کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ شکریہ!
(۱) قبرستان میں ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنا جائز اور مباح ہے، مگر آج کل قبروں پر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنے میں مبتدعین کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، اور عام عوام کے عقائد خراب ہونے کا خطرہ بھی شدید ہے، اس لئے اس سے احتراز کرنا ضروری ہے.
(۲) عورتوں کے گھر سے نکلنے میں فتنہ زیادہ ہے، اس لئے انہیں چاہیئے کہ، اپنے گھروں میں ہی رہیں ،اور اگر قبرستان جاکر کوئی خلافِ شرع کام نہ کیا جائے، تو بوڑھی عورتوں کو زیارتِ قبور کیلئے نکلنا جائز ہے، جوان عورت کو نکلنے سے بہرحال احتراز کرنا چاہیئے، اور ایصالِ ثواب کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ،انفرادی طور پر حسبِ توفیق صدقاتِ نافلہ، قرآن کی تلاوت، نفل نمازیں پڑھ کر اور نفل روزے وغیرہ رکھ کر اس کا ثواب میت کو پہنچایا جائے، ایصالِ ثواب کیلئے پورے خاندان کو جمع کرنا، اور سب کی حاضری کو ضروری سمجھنا قطعاً درست نہیں، اس سے احتراز ضروری ہے، اور اسی طرح قرآن کریم کو قبرستان لے جانا بھی ضروری نہیں، بلکہ جو کچھ زبانی یاد ہو ،(مثلاً قل ہوﷲ الخ) وغیرہ پڑھ کر اس کا ثواب پہنچانے سے بھی میت کو اس کا ثواب مل جاتا ہے، لیکن اس کیلئے کسی وقت اور جگہ کو خاص کرنا بھی درست نہیں ہے۔
ففی صحیح المسلم: حتی جاء البقیع فقام فاطال القیام ثم رفع یدیه ثلث مرات اھ
وفی شرح النووی: (قوله حتی جاء البقیع الخ) فیه استحباب اطالة الدعاء وتکریرہ ورفع الیدین اھ (٣١٣/١).
وفی الشامیة:(قوله ولو للنساء) وقیل تحرم علیہن والأصح أن الرخصة ثابتة لہن بحر، وجزم فی شرح الکبیر بالکراہة لمامر فی اتباعہن الجنازۃ وقال الخیر الرملی إن کان ذلک لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ماجرت به عادتہن فلا تجوز وعلیه حمل حدیث لعن اﷲ زائرات القبور وان کان للإعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین فلا بأس إذا کن عجائز ویکرہ إذا کن شواب کحضور الجماعة فی المساجد اھ (٤٤٥/١)۔واﷲ اعلم!