محترم جناب مفتی صاحب !
میرا سیونگ اکاؤنٹ میزان بینک میں ہے (جس کے مالکان کا دعوی ہے کہ وہ ایک اسلامی بینک ہے ) میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ واقعی یہ اسلامی بینک ہے کہ نہیں ؟
ثانياً : اکاونٹ میں جو میرے پیسے ہیں اس کی زکوۃ میں خود نکالوں یا بینک کے ذمہ لگاؤں؟
ہماری معلومات کے مطابق "میزان بینک " وہ بنکاری اور کاروباری ادارہ ہے جس نے موجودہ دور میں اسلامی بنکاری کرنے اور اُسے متعارف کرانے کا دعوی کیا ہے۔ اور اس کے شرعی ایڈوائزر مولانا مفتی ڈاکٹر ۔۔۔۔ ہیں۔ اور انہی کی نگرانی میں یہ ادارہ کام کر رہا ہے ۔ اور ان کی ہر ممکن کوشش اسلامی بنکاری کے نفاذ کی ہے ۔ اس لیے اس کے اسلامی بینک ہونے میں شبہ نہیں۔ تاہم مذکور بینک اگر اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کے ساتھ باضابطہ ایگریمنٹ کے بغیر زکوۃ کی کٹوٹی نہ کرتا ہو جیسا کہ دوسرے بینک یکم رمضان کو بہر صورت کٹوتی کرتے ہیں) تو اس صورت اپنی رقم کی زکوٰۃ خود نکالنا زیادہ بہتر ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب