السلام علیکم! امید ہے بخیر ہوں گے، ایک فیملی کے ہاں ایک بچّے کی پیدائش ہوئی تھی، ۴، ۵ گھنٹے زندہ رہا ہے، اس کے بعد وفات پا گیا تھا، بچے کو غسل اور کفن دیا گیا ہے، لیکن وہاں موجود کسی فرد نے کہا کہ بچوں کے جنازے کی ضرورت نہیں ہے وغیرہ وغیر ہ ، جس کو درست مان کر موجود افراد نے جنازہ نہیں ادا کیا اور ایسے ہی تدفین کر دی ہے، ابھی ان سے بات ہوئی تو اب فیملی کے افراد بہت پریشان ہیں، اور غائبانہ جنازہ ادا کرنا چاہتے ہیں، اس حوالے سے راہ نمائی درکار ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنی چاہئے یا نہیں ؟
مذکور بچہ جب زندہ پیدا ہوا تھا اور اس کے بعد فوت ہوا ہے تو اس بچے کا نام رکھ کر اسے غسل دینااور اس پر نماز جنازہ پڑھنا لازم تھا، تاہم اگر غلط فہمی کی وجہ سے نماز جنازہ نہ پڑھی ہو تو تین دن تک اس کی قبر پر جنازہ پڑھ سکتے ہیں، لیکن تین دن کے بعد یا غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں، جس سے احتر از چاہیئے۔
كما فى الدر المختار: (ومن ولد فمات يغسل ويصلى عليه) ويرث ويورث ويسمى (إن استهل) بالبناء للفاعل: أي وجد منه ما يدل على حياته بعد خروج أكثره، حتى لو خرج رأسه فقط وهو يصيح فذبحه رجل فعليه الغرة اھ (2/ 227)
وفيه ايضا: (وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح وظاهره أنه لو شك في تفسخه صلي عليه، لكن في النهر عن محمد لا كأنه تقديما للمانع اھ (2/ 224)
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله هو الأصح) لأنه يختلف باختلاف الأوقات حرا وبردا والميت سمنا وهزالا والأمكنة بحر، وقيل يقدر بثلاثة أيام، وقيل عشرة، وقيل شهر اھ (2/ 224)
وفي الفتاوى الهندية: ويصلى على كل مسلم مات بعد الولادة صغيرا كان أو كبيرا ذكرا كان أو أنثى حرا كان أو عبدا إلا البغاة وقطاع الطريق ومن بمثل حالهم وإن مات حال ولادته فإن كان خرج أكثره صلي عليه وإن كان أقله لم يصل عليه وإن خرج نصفه لم يذكر في الكتاب اھ (1/163)
وفیها أیضا: ولو دفن الميت قبل الصلاة أو قبل الغسل فإنه يصلى على قبره إلى ثلاثة أيام، والصحيح أن هذا ليس بتقدير لازم بل يصلى عليه ما لم يعلم أنه قد تمزق، كذا في السراجية اھ (1/ 165)
وفیها أیضا: ومن الشروط حضور الميت ووضعه وكونه أمام المصلي فلا تصح على غائب ولا على محمول على دابة ولا على موضوع خلفه هكذا في النهر الفائق اھ (1/ 164)