اگر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوتا ہے ، اور شوہر غصے میں آکر الفاظ اس طرح سے کہتا ہے کہ " جاؤ , اپنے بھائی کو بتا دو کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے " یعنی براہ راست طلاق نہیں دیتا، بلکہ پیغام کے انداز میں کہتا ہے، تو اس طرح سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟
شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران اگر چہ پیغام کے انداز میں اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " جاؤ , اپنے بھائی کو بتا دو کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے" کہے ، تب بھی اس سے شرعاً اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر اگرچاہے تو عدت کے اندر بغیر تجدیدِ نکاح کے رجوع کر سکتا ہے، جس کا طریقہ یہ ہو گا کہ یا تو زبان سے کہہ دے کہ مثلاً میں نےرجوع کر لیا وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لیں یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چُھولے تو اس سے بھی رجوع ہوجائے گا، ورنہ اگر عدت میں رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے تجدید ِنکاح لازم ہو گا، اوربیوی دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہوگی، مگر اس رجوع یا نکاح کے بعد آئندہ شوہر کےپاس فقط دو طلاقوں کا اختیارہو گا ، اسلئے طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافی مجمع الانھرفی شرح ملتقی الابحر: وكذا لو قال احمل إليها طلاقها، أو بشرها بطلاقها فهي طلاق بلغها، أو لا، وكذا لو قال أخبرها أنها طالق، أو قل لها إنها طالق.اھ(1/388)-
وفی البحرالرائق: وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة اھ(3/264)-
وفی الھندیة:وإن قال أنت الطلاق أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا فإن لم تكن له نية أو نوى واحدة أو ثنتين فهي واحدة رجعية وإن نوى ثلاثا فثلاث ولو قال أنت طالق يقع الطلاق به ولا يحتاج فيه إلى النية ويكون رجعيا اھ(1/355)-
وفیھاایضاً:وتنقطع الرجعة إن حكم بخروجها من الحيضة الثالثة إن كانت حرة والثانية إن كانت أمة لتمام عشرة أيام مطلقا وإن لم ينقطع الدم كذا في البحر الرائق اھ(1/471)-
وفی الھدایة: " وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتهارضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.اھ(2/254)-