امامت و جماعت

حواس کھونے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
40493
| تاریخ :
2020-06-06
عبادات / نماز / امامت و جماعت

حواس کھونے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ! محترم جناب مفتی صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم جامع مسجد سیدنا حسنؓ کے نمازی اور انتظامی امور بھی دیکھ رہے ہیں؟ یہ مسجد سیکٹر G-13/1 اسلام آباد میں واقع ہے، ہمیں اپنے پیش امام صاحب کی باجماعت نماز ادا کروانے میں امامت کے دوران ایک شرعی مسئلہ درپیش ہے، جس کی رہنمائی ہم آپ سے چاہتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے امام صاحب بعض اوقات دورانِ جماعت کی نماز میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں اور مصلے سے منہ پھیر کر اپنے ہاتھوں کے اشارے سے کسی چیز کو واپس جانے کا اشارہ کرتے رہتے ہیں اور یہ کیفیت ان پر کچھ لمحوں تک طاری رہتی ہے، اس دوران مؤذن مسجد اپنے مصلے کو چھوڑ کر آگے بڑھ کر امام صاحب کی جگہ لے لیتے ہیں اور اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرتے ہیں اور یوں اس رکعت کو پورا کرتے ہیں، اور جب امام صاحب اپنے ہوش و حواس میں دوبارہ واپس آتے ہیں تو وہ اپنی بقیہ نماز مؤذن مسجد کے مصلے پر جاکر ادا کرکے مکمل کرتے ہیں۔
درجِ بالا مسئلہ کو دیکھتے ہوئے آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں ان نکات پر فتویٰ دیں:
(۱) مندرجہ بالا کیفیت میں کیا امام صاحب کا وضو قائم رہتا ہے؟
(۲) جس طریقہ سے مؤذن مسجد امام صاحب کی جگہ لیکر نماز کو مکمل کرواتے ہیں کیا یہ طریقہ کار درست ہے؟
(۳) امام مسجد کی درج بالا معذوری کے ہوتے ہوئے کیا وہ اس قابل ہیں کہ وہ نماز پنجگانہ کی باجماعت امامت کرواسکیں؟
(۴) امام صاحب کی مندرجہ بالا معذوری کے باوجود جس کا علم انہیں خود بھی بخوبی ہے اگر امام صاحب بضد ہوں کہ امامت انہوں نے ہی کروانی ہے تو اس بارے میں امام صاحب کیلئے شرعی کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست ہو، اس طور پر کہ امام صاحب موصوف پر دورانِ نماز بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہو تو ایسی صورت میں دورانِ نماز بے ہوشی طاری ہوجانے کی وجہ سے امام صاحب اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے والے مقتدیوں کی نماز فاسد ہوجاتی ہے، جس کے بعد مؤذن کا آگے بڑھ کر امام صاحب کی نماز کو مکمل کرنا بھی درست نہیں، بلکہ ایسی صورت میں تمام لوگوں پر از سر نو نماز پڑھنا لازم ہوگا، لہٰذا جتنی نمازوں میں امام صاحب موصوف پر بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوچکی تھی اور پھر سوال میں ذکر کردہ طریقے کار کے مطابق ان کی تکمیل کی گئی تو وہ نمازیں درست ادا نہیں ہوئیں، اس لئے امام صاحب اور مقتدیوں پر ان نمازوں کا اعادہ لازم ہے، جبکہ امام صاحب موصوف اگر اس کے علاوہ کسی غیر شرعی امر کے مرتکب نہ ہوں تو وہ اگرچہ امامت کے اہل ہیں مگر انہیں یہ عارضہ اگر اکثر و بیشتر لاحق ہوتا ہو تو انہیں چاہئے کہ اپنے علاج و معالجہ کا بندوبست کریں اور جب تک ان کا علاج و معالجہ نہ ہو تب تک اہل محلہ کی مشاورت سے کسی کو اپنا قائم مقام منتخب کریں، تاکہ بار بار نمازیں دہرانے میں مقتدیوں کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق: قولہ (وإغماء وجنون) أي وینقضہ إغماء وجنون (إلی قولہ) وأما الجنون فہو زوال العقل ونقضہ ظاہر باعتبار عدم مبالاتہ وتمییز الحدث من غیرہ۔ اھـ (ج۱، ص۴۱)۔
وفی الفقہ الإسلامی: لصحۃ الاستخلاف عند الحنفیۃ شروط ثلاثۃٰ: أولہا – توافر شروط البناء علی الصلاۃ السابقۃ؛ لأن الاستخلاف فی الحقیقۃ بناء من الخلیفۃ علی ما صلاہ الإمام، وہی ثلاثۃ عشر شرطًا: کون الحدث قہریًا، من بدنہ لا من نجاسۃ غیرہ، وکونہ غیر موجب للغسل کإنزال بتفکر، وغیر نادر کالإغماء والجنون والقہقہۃ إلخ۔ (ج۲، ص۱۲۶۹)۔
وفی الہندیۃ: إذا أغمی فی صلاتہ أو جن أو قہقہہ یتوضأ ویستقبل الصلاۃ وکذلک إذا نام فی صلاتہ واحتلم یستقبل ولا یبنی استحسانا۔ اھـ (ج۱، ص۹۴)۔
وفی بدائع الصناع: وأما شرائط جواز الاستخلاف، فمنہا أن کل ما ہو شرط جواز البناء فہو شرط جواز الاستخلاف حتی لا یجوز مع الحدث العمد والکلام والقہقہۃ وسائر نواقض الصلاۃ کما لا یجوز البناء مع ہذہ الأشیاء؛ لأن الاستخلاف یکون للقائم ولا قیام للصلاۃ مع ہذہ الأشیاء بل تفسد ولو حصر الإمام عن القراءۃ فاستخلف غیرہ جاز فی قول أبی حنیفۃ وأبی یوسف وعند محمد لا یجوز وتفسد صلاتہم۔ اھـ (ج۱، ص۲۲۶)۔
وفی الہندیۃ: فأما المجنون والصبی الذی لا یعقل فلیس من أہل الإمامۃ أصلا؛ لأنہما لیسا من أہل الصلاۃ (إلی قولہ) وأما بیان من یصلح للإمامۃ علی التفصیل فکل من صح اقتداء الغیر بہ فی صلاۃ یصلح إماما لہ فیہا، ومن لا فلا، وقد مر بیان شرائط صحۃ الاقتداء۔ اھـ (ج۱، ص۱۵۷) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 40493کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات