امامت و جماعت

مسجد کے قریب ، پڑوس والوں کا اپنے گھروں میں ، لاؤڈ سپیکر کی آواز پر امامِ مسجد کی اقتداء کرنا

فتوی نمبر :
40346
| تاریخ :
2020-04-30
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجد کے قریب ، پڑوس والوں کا اپنے گھروں میں ، لاؤڈ سپیکر کی آواز پر امامِ مسجد کی اقتداء کرنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
موجودہ حالات میں جیسا کہ وبا کی وجہ سے حکومت اور علماء کی باہمی مشاورت سے نمازوں کا گھروں پر ادا کرنا طے پایا ہے ، تو سوال یہ ہے کہ ہمارا گھر مسجد سے کچھ ہی اکا دکا گھروں کے بعد ہے اور یہ گھر بھی آپس میں متصل ہیں ، اور گھر مسجد کے پیچھے واقع ہیں ، جہاں اذان اور نماز کی تمام آوازیں یعنی تکبیرات و تلاوت وغیرہ بہ آسانی سنائی دیتی ہیں ، ایسی صورت میں چھت پر یا گھر کے صحن وغیرہ میں عام نمازیں بشمول نمازِ جمعہ ،جماعت کی نماز کی اتباع کرتے ہوئے پڑھنا کیسا ہے؟ کیا ان خصوصی حالات میں اس کی گنجائش اور اجازت شرعاً ممکن ہے ؟ نیز یہی سوال نمازِ تراویح کی جماعت کے بارے میں بھی ہے ، براہِ کرم جلد جواب مرحمت فرمائیں تاکہ ہماری ذہنی کوفت دور ہو سکے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے گھر تک اگر صفیں متصل بنی ہوئی نہ ہوں تو ایسی صورت میں محض تکبیرات کی آواز سنائی دینے کی وجہ سے اپنے گھر کی چھت یا صحن وغیرہ سے نمازِ جمعہ اور تراویح میں مسجد کے امام صاحب کی اقتداء کرنا درست نہیں ، اور اس طرح کرنے سے وہاں کھڑے لوگوں کی نماز ادا نہ ہوگی ،لہٰذا موجودہ صورتِ حال میں اگر مسجد آنا ممکن نہ ہو تو اپنے گھروں میں ہی باجماعت یا انفرادی نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی سنن ابن ماجه : عن ابن عباس ، عن النبي صلى الله عليه و سلم ، قال : « من سمع النداء فلم يأته ، فلا صلاة له ، إلا من عذر » اھ (1/ 260)۔
و فی بدائع الصنائع : (و منها) - اتحاد مكان الإمام و المأموم ، و لأن الاقتداء يقتضي التبعية في الصلاة ، و المكان من لوازم الصلاة فيقتضي التبعية في المكان ضرورة ، و عند اختلاف المكان تنعدم التبعية في المكان فتنعدم التبعية في الصلاة لانعدام لازمها ؛ و لأن اختلاف المكان يوجب خفاء حال الإمام على المقتدي فتتعذر عليه المتابعة التي هي معنى الاقتداء ، حتى أنه لو كان بينهما طريق عام يمر فيه الناس أو نهر عظيم لا يصح الاقتداء ؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء ، و أصله ما روي عن عمر - رضي الله عنه - موقوفا عليه و مرفوعا إلى رسول الله - صلى الله عليه و سلم - أنه قال " من كان بينه و بين الإمام نهر أو طريق أو صف من النساء فلا صلاة له " اھ (۱/ ۱۴۵)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 40346کی تصدیق کریں
1     1349
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات