ایک نمازی امامِ مسجدسے فقہ کی بنیاد پربغض میں ایسا مبتلاء ہے کہ شکایات بازی کا کوئی موقع ہاتھ سےجانے نہیں دیتا ، پرچہ بھی کروانا چاہتا تھا، خوش ہو کرمحفل میں بتاتا تھا کہ فلاں امامِ مسجد پے پرچہ ہوگیا اور نماز بھی اسی امام کے پیچھے پڑھتا ہے، ایسے نمازی کے لئے کیا حکم ہے؟
فقہ کی بنیاد پر اختلاف رکھنا اگر چہ بری بات نہیں، تاہم اس اختلاف کی وجہ سے اپنے امام صاحب موصوف کے ساتھ دل میں بغض رکھنا، بلاوجہ اس کی شکایت کرکے خاص الزام لگانا، انتہائی کم ظرفی اور شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے مذکور نمازی کواحتراز لازم ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: عن عبد الرحمن بن غنم واسماء بنت يزيد رضى الله عنهم، ان النبيﷺ قال : "خيار عباد الله الذين اذا رؤوا ذكر الله، وشرار عباد الله، بالنميمة، والمتفرقون بين الاحبة، الباغون البراء العنت "روا هما احمد (ج 2 / ص 152).
وفي مرقاة المفاتيح: (شرار عباد الله): بصغية المبالغة للنسبة الى الذين یمشون "بالنميمة" أى على وجه الفساد۔( ج 8 ص (425)